جیو نیوز کا پروگرام "نیا پاکستان” بجلی فلیئر کی وجہ سے بند ہوا یا محرکات کچھ اور ہیں؟

پروگرام کے اینکر پرسن شہزاد اقبال کا کہنا ہے کہ اسٹوڈیو کی لائٹ چلے گئی تھی جس کی وجہ سے باقی کا پروگرام آن ایئر نہیں ہوسکا۔

حکومت پر تنقیدی پروگرام کرنے پر جیو نیوز کے پروگرام "نیا پاکستان” کو آف ایئر کردیا گیا ہے جبکہ پروگرام کے اینکر پرسن شہزاد اقبال کا کہنا ہے کہ لائٹ کے فلیئر کی وجہ سے پروگرام آن ایئر نہیں ہوسکا ۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے اینکر پرسن شہزاد اقبال نے لکھا ہے کہ "اسٹوڈیو میں بجلی کی خرابی کے باعث نیا پاکستان شو اچانک متاثر ہوا۔”

یہ بھی پڑھیے

ٹیکنالوجیز طاقت کے موجودہ توازن پر اثرانداز ہوں گی، جنرل (ر) زبیر حیات

روہڑی ریلوے اسٹیشن کو منفرد بنا نے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا

"نیا پاکستان” پروگرام کے انٹرو میں اینکر پرسن شہزاد اقبال نے شہباز شریف حکومت کی معاشی پالیسیز پر شدید تنقید کی اور کچھ سابقہ حوالے بھی دیئے۔

اینکر پرسن کاکہنا ہے تھا کہ شہباز شریف حکومت نے 10 جون کو اپنا پہلا بجٹ پیش کردیا جو ممکنہ طور پر آخری بجٹ بھی ہو گا ، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے ساتھ مختلف قسم کے ریلیف پیکجز کا بھی اعلان کیا ہے۔

شہزاد اقبال کا کہنا تھا مگر حکومت نے بجٹ میں اگلے سال مہنگائی اور خسارے کے جو اہداف رکھے ہیں ، اسے معاشی ماہرین غیرحقیقی قرار دے رہے ہیں۔

شہزاد اقبال نے اپنے پروگرام میں معاشی ماہرین کی رائے کے ریکارڈڈ کلپ چلائے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے طے کردہ مہنگائی کو ہدف بھی حاصل نہیں ہوسکیں گے اور جی ڈی پی کی شرح بھی 5 فیصد ہونا بھی ممکن دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

ایک اور معاشی ماہر کا کہنا تھا کہ بجٹ میں گروتھ کا جو کانسیپٹ دیا گیا ہے ، اکانومی اندرونی مسائل کا شکار ہے ، انرجی کے مسائل ہیں، تو مسائل پر قابو کیسے پایا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا انڈسٹری پہلے ہی انڈرپریشر ہے ، اور جو انٹریسٹ ریٹز رکھے گئے ہیں وہ کسی بھی طور پر صنعت کے لیے اچھے نہیں ہیں۔

اسی طرح سے اینکر پرسن شہزاد اقبال نے اپنے پروگرام میں وہ تنقیدی کلپس چلائے جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی اور مسلم لیگ ن کے رہنما بجٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنی اپنی ماہرانہ رائے دیتے تھے۔

تاہم اینکر پرسن نے وقفے لیا اور ناظرین وقفے کے بعد کے پروگرام کا انتظار ہی کرتے ہی رہ گئے مگر پروگرام آن ایئر نہیں ہوا۔

جس پر وضاحت دیتے ہوئے شہزاد اقبال نے کہا ہے کہ اسٹوڈیو کی لائٹ چلے گئی تھی جس کی وجہ سے ان کا پروگرام دوبارہ آن ایئر نہیں ہوسکا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیو نیوز پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا نیٹ ورک ہے ایسے کیسے ہوسکتا ہے کہ اسٹوڈیو کی لائٹ چلی جائے اور انکے پاس بیک اپ کے لیے جنریٹر کا بندوبست نہ ہو ۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے پروگرام کو موضوع تھا وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے لیے ناقابل برداشت تھا ، اس ساری صورتحال سے تاثر یہ ملتا ہے کہ ن لیگ کی میڈیا مینجمنٹ نے پروگرام کو آن ایئر نہیں ہونے دیا۔

متعلقہ تحاریر