سپریم کورٹ کا موسم گرما کی چھٹیاں نہ کرنے کا فیصلہ
سپریم کورٹ نے موسم گرما کے پہلے ہفتے کے لیے عدالت نے 4 بینچ تشکیل دے دیئے ہیں۔

سپریم کورٹ رپورٹر حسنات ملک نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پراپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے گرمیوں کی چھٹیاں نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت نے موسم گرما کے پہلے ہفتے کے لیے 4 بینچ تشکیل دے دیئے ہیں۔
حسنات ملک نے بتایا کہ سپریم کورٹ رواں سال موسم گرما کی تعطیلات میں عام روٹین کے مطابق کام کرے گی۔ پہلے ہفتے میں 3 بینچز سمیت پرنسپل سیٹ پر کام کریں گے جبکہ ایک بینچ کراچی رجسٹری کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
جزلان فیصل کے ورثا کا قتل کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ
صحافی حسنا ت ملک کے مطابق 13 اور 14 جون کے لیے 2 لارجر بینچ بھی تشکیل دیے گئے ہیں۔
Supreme Court will function with maximum strength during entire summer. 'In the first week of summer spell, four benches of SC have been constituted, three at Principal Seat and one at Karachi Branch Registry with two larger benches on 13-14 June.
— Hasnaat Malik (@HasnaatMalik) June 12, 2022
خیال رہے کہ چند روز قبل سپریم کورٹ کے اعلامیہ میں بتایا گیا تھا کہ گزشتہ چار ماہ میں زیرالتوا مقدمات میں سے ایک ہزار 182کیسز کم ہوئے ہیں۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق 31 جنوری 2022 کو زیرالتوا مقدمات کی تعداد 53 ہزار 964 تھی اور چار ماہ میں کیسز کی تعداد کم ہوکر 52ہزار 796 ہوگئی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران 6 ہزار 509 نئے کیسز داخل ہوئے جبکہ گزشتہ چار ماہ میں 7ہزار 691 مقدمات کے فیصلے ہوئے ۔
واضح رہے کہ پاکستان میں موسم گرما میں ڈھائی ماہ تک چھوٹی بڑی تمام عدالتیں بند رہتی تھیں تاہم یہ سہولت پاکستان کے کسی سرکاری ادارے کو حاصل نہیں ہے۔ موسم گرما میں انتہائی ضروری نوعیت کے کیسز ڈیوٹی ججز دیکھتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالتوں میں موسم گرما کی تعطیلات کا رواج انگریز دور حکومت میں قائم ہوا کیونکہ برطانوی حکام اس خطے کی گرمی برداشت نہیں کر پاتے تھے جس کے باعث عدالتوں میں موسمی چھیٹوں کا شیڈول بنایا تاکہ ججز گرمی کی تعطیلات میں برطانیہ چلے جائیں۔









