صدر مملکت نے ٹیکس گزار خاتون کو تنگ کرنے پر ایف بی آر کی کلاس لے لی

صدر مملکت کی ایف بی آر کو  متعلقہ افسران کی بدانتظامی کے خلاف انکوائری  کی ہدایت

صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے وفاقی ٹیکس محتسب کے فیصلے کے خلاف ایف بی آر کی اپیل مسترد کردی جبکہ  خاتون ٹیکس گزارکو ہراساں کرنے پر ایف بی آر کی سرزنش بھی کی ۔

ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق ٹیکس گزار نے ٹیکس ریفنڈ نہ ملنے پر ایف بی آر کے خلاف وفاقی ٹیکس محتسب میں شکایت درج کروائی تھی۔ ڈاکٹرعارف علوی نے ٹیکس محتسب کے فیصلے کے خلاف ایف بی آر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیس کو بار بار غلط طریقے سے نمٹا یا گیا ۔ ایف بی آر کے افسران کا رویہ شکایت کنندہ کو ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کی محنت رنگ لے آئی، پاکستان گرے لسٹ سے نکل گیا

عارف علوی کا کہنا تھا کہ  افسوس کی بات ہے کہ 2015 میں دائر کی گئی درخواست جسے قانوناً 60 دن میں نمٹانا تھا وہ تقریباً 5 سال تک زیر التواء رہی۔ وفاقی محتسب کے پاس شکایت درج ہونے کے بعد درخواست پر انتقامی انداز میں کارروائی کی گئی ۔ایف بی آر نے دو مرتبہ شکایت کنندہ سے انکم ٹیکس آرڈیننس کی مختلف شقوں کے تحت ٹیکس چارج کیا۔محتسب کے فیصلے پر عمل درآمد کی بجائے  ایف بی آر نے دوبارہ صدر مملکت کو درخواست دائر کی ۔

 

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے افسران کا طرز عمل بدانتظامی کے مترادف ہے۔فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی، عدم توجہی، نااہلی ، من مانی اور انتظامی زیادتیاں بھی بدانتظامی کے زمرے میں آتی ہیں ۔صدر مملکت نے ہدایت کی کہ ایف بی آر معاملے کو قانون کے مطابق نمٹائے ، تعصب اور ذاتی رنجش کے بغیر قانونی نقطہ نظر اپنایاجائے۔

واضح رہے کہ  رخسانہ کنول (شکایت کنندہ) نے ٹیکس ریفنڈ جاری نہ کرنے پر 2015سے 2019 کے دوران ٹیکس محتسب کے پاس شکایات درج کرائی تھیں۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے20مارچ 2020 کو اپنے حکم کے ذریعے شکایت کنندہ کو سماعت کا موقع فراہم کرنے کے بعد قانون کے مطابق رقم کی واپسی کی درخواستوں کو نمٹانے کی سفارش کی تھی۔ٹیکس افسران نے ٹیکس ریفنڈ جاری کرنے کے بجائے ٹیکس دہندہ کوانکم آرڈیننس کی شق 113کے تحت سماعت کا موقع فراہم کیے بغیر ٹیکس لگایا ۔کمشنر ان لینڈ ریونیو (اپیل) نے ٹیکس منسوخی کا حکم جاری کیا جسے افسر نے نظر انداز کر دیا ۔

متعلقہ تحاریر