ایلو ن مسک کے ستارے گردش میں آگئے، 258 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر
ایلون مسک کی ڈیجیٹل کرنسی میں ان سائیڈ ٹریڈنگ سے لوگوں کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا

الیکٹرک گاڑیاں بنانے والے ادارے تیسلا کے مالک اور دنیا کے امیر ترین بزنس ٹائیکون ایلون مسک پر مین ہٹن کورٹ میں 258 ارب ڈالر کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا گیا ہے ۔
درخواست گزار کیتھ جانسن کے نیو یارک کی مین ہٹن کورٹ میں الیکٹرک گاڑیاں بنانے والے ادارے ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے مالک ایلون مسک پر 258 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
ایلون مسک کی ٹوئٹر کی خریداری کا معاہدہ منسوخ کرنے دھمکی
کیتھ جانسن نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ ایلون نے ڈوجکوائن کرنسی میں ان سائیڈ ٹریدنگ کی۔ مسک نے کرپٹو کرنسی میں بری سرمایہ کاری کرکے لوگوں کواس طرف راغب کیا۔

کیتھ جانسن نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ کرپٹو کرنسی میں ایلون نے سرمایہ کار ی کرکے ان سائیڈ ٹریڈنگ کی جس کے باعث دیگر افراد کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا ۔
جانسن کے وکیل نے کہا ہے کہ اس کے مؤکل کے پاس ثبوت ہیں تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ ایلون مسک کے قانونی مشیر بھی اس معاملے پر خاموشی اختیار کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال دنیا کے سب سے دولت مند شخص ایلون مسک کی جانب سے کرپٹو کرنسی ڈوجکوائن میں کاروباری لین دین کے اعلان نے اس کی قدر میں ایک دم اضافہ کردیا تھا۔
امریکی میگزین ٹائم کو دیئے ایک انٹرویو میں ایلون مسک نے ڈوجکوائن میں لین دین کے اعلان پر ڈوجکوائن کی قیمت میں 20 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا تھا ۔
خیال رہے کہ بٹ کوائن کی قیمت 25 ہزار ڈالر سے کم ہو کر 18 ماہ کی کم ترین سطح پرآگئی ہے۔ گزشتہ جمعہ کو کرپٹو کی ڈیلز میں تقریباً 10 فیصد کم ہوئی جس کے بعد اس کی قدر 23 ہزار 794 ڈالر تک پہنچ گئی۔









