پاکپتن: ڈیرہ رحیم ساہیوال پولیس کے مبینہ مقابلے میں دو نوجوان ہلاک، لواحقین کا احتجاج

لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ حکام نوٹس لے کر جعلی پولیس مقابلہ میں ملوث اہلکاروں کیخلاف کاروائی کریں۔

پاکپتن: دیہاتیوں نے جن نوجوانوں کو مشکوک سمجھ کر  پولیس کے حوالے کیا تھا ، دو دن بعد دونوں نوجوان مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کردیئے گئے۔

مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے نوجوانوں کے لواحقین نے پریس کلب پاکپتن کے باہر احتجاج مظاہرہ کیا ہے۔ لواحقین نے پولیس پارٹی کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کمالیہ میں جعلی اور مضر صحت جوس بنانے والی فیکٹری سیل

معروف بزنس مین سیٹھ عابد کی بیٹی کو قتل کردیا گیا

ورثاء نے میڈیا کے سامنے اپنے ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی ویڈیو شیئر کردی ، ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ گرفتاری کے وقت دونوں نوجوان زندہ تھے۔ ورثاء حصول انصاف کے لیے عدالت پہنچ گئے۔

پاکپتن کے نواحی گاوں 88 ڈی سے غلام محمد اور سفارش علی کو عوام نے مشکوک سمجھ کر پکڑ کر تھانہ ڈلو وریام پاکپتن پولیس کے حوالے کیا ، جہاں سے تھانہ ڈیرہ رحیم ساہیوال پولیس دونوں کو لے گئی تھی ۔

لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ ساہیوال پولیس نے ملزمان سے سازباز کر جعلی پولیس مقابلہ میں نوجوانوں کو قتل کیا۔

لواحقین نے مطالبہ کیا ہے کہ اعلیٰ حکام نوٹس لے کر جعلی پولیس مقابلہ میں ملوث اہلکاروں کیخلاف کاروائی کریں۔

لواحقین نے انصاف کےلیے عدالت سے  رجوع کرلیا۔ جس پر ایڈیشنل سیشن جج نے پولیس سے رپوٹ طلب کرلی ہے۔

متعلقہ تحاریر