مودی نے بھارتی جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، اروندھتی رائے
مودی کی پارٹی کے ترجمانوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف توہین آمیز ریمارکس دیکر بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کو آگ بگولہ کردیا

بھارت کی مشہور و معروف مصنف اروندھتی رائے کا کہنا ہے کہ نریندرمودی نے ہندوستان کی جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمانوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف توہین آمیز ریمارکس دیکر بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کو آگ بگولہ کردیا ہے ۔
امریکی جریدے سی این این کو دیئے ایک انٹرویو میں اروندھتی رائے کا کہنا تھا کہ نریندرمودی کا بھارت ایک ایسا تجربہ ہے جو خطرناک حد تک ناکام ہو رہا ہے ۔ میرے بہت سےدوست احباب ، شاعر، تعلیم دان، وکلاء انسانی حقوق کے کارکنا ن سمیت متعدد صحافیوں کو حق و سچ پر مبنی خیالات کے اظہار پر متنازع قوانین کے تحت جیل میں ڈال دیا گیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
بھارت میں کم عمر لڑکی کی شادی پر قانون حرکت میں آگیا، لڑکی بازیاب، لڑکا گرفتار
اروندھتی رائے نے کہا کہ بی جے پی کے ترجمانوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف ہرزہ سرائی کی تو اس کا عالمی سطح پر ردعمل آیا ۔بہت سے اسلامی ممالک کے بھارت کے سفراء کو طلب کرکے احتجاج کیا ۔ بھارتی مسلمانوں نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جبکہ وزارت خارجہ نے پیغمبر اسلام کے خلاف تبصرے کو ترجمانوں کی ذاتی رائے قرار دیا ۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی سیاسی جماعت نہیں بلکہ انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کا فرنٹ آفس ہے ۔ آر ایس ایس کی اپنی ملیشیا اور تعلیمی ادارے ہیں۔ 1925 میں قائم ہونے والی، آر ایس ایس روایتی طور پر مٹھی بھر برہمنوں کے زیر کنٹرول ہے جبکہ اس کے ارکان کی تعداد لاکھوں میں ہے جن میں کابینہ کے وزراء یہاں تک کہ وزیر اعظم مودی بھی شامل ہیں۔
مودی کی مقبولیت میں کمی نہ آنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا فارم کے الگورتھم کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ نفرت کو شائستگی سے کہیں زیادہ سپورٹ ملتی ہے ۔ ہندوستانی جمہوریت پر رائے دیتے ہوئے اروند دھتی رائے نے کہا کہ جمہوریت کا مطلب صرف باقاعدہ انتخابات کا نہیں ہوتا۔ آپ اس وقت جمہوریت نہیں ہو سکتے جب 200 ملین لوگ جو مذہبی اقلیت ہیں ان سے حقوق کے بغیر زندگی گزارنے کی توقع کی جائے۔
خیال رہے کہ اروندھتی رائے بھارت سمیت دنیا بھر میں میں حق و سچ کی استعمارہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ وہ بکر(booker) انعام یافتہ "دی گاڈ آف سمال تھنگز” کی مصنفہ ہیں جبکہ اس کے علاوہ ان کی بہت سے کتابوں پر دنیا بھر سے مختلف ایوارڈ جیتے ہیں۔









