چوہدری شجاعت حسین کے سگے بھائی چوہدری پرویز الہٰی کی حمایت میں سامنے آ گئے
مسلم لیگ (ق) کے سربراہ کے سگے بھائی چوہدری وجاہت حسین کا مخالفین ہمیں ہرانے کے لیے ہمارے خاندان میں دراڑیں ڈال رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کے درمیان اختلاف کی خبروں کے بعد چوہدری وجاہت حسین نے بھی اپنے بڑے بھائی سے اختلاف کی بنا چوہدری پرویز الہٰی اور مونس الہٰی کے حق میں بول پڑے ہیں۔
گجرات میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین کے سب سے چھوٹے بھائی چوہدری وجاہت حسین کا کہناتھا کہ ہم سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کیئے گئے اپنے وعدے پورے کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے
ایم کیو ایم کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری چاہتے ہیں، خواجہ سعد رفیق
حمزہ شہباز ضمنی انتخابات میں دھاندلی کیلئے ڈی پی اوز پر دباؤ ڈال رہا ہے، قریشی کا الزام
سالک حسین پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے چوہدری وجاہت حسین کا کہنا تھا کہ چوہدری سالک حسین کا گجرات کی سیاست سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔
Ch Wajahat Hussain sb @EllahiHussain pic.twitter.com/rOihd3i07V
— Moonis Elahi (@MoonisElahi6) June 24, 2022
چوہدری وجاہت حسین کا کہنا تھا وہ مخالفین جو کبھی ہمیں ہمارے حلقوں میں نہیں ہراسکے وہ سیاسی میدان میں ہمیں شکست دینے کے لئے ہمارے خاندان میں دراڑیں ڈال رہے ہیں۔
چوہدری وجاہت حسین کا کہنا تھا میری چوہدری شجاعت حسین نے ملاقات ہوئی تھی ، انہوں نے گجرات والوں کے لیے پیغام دیا ہے کہ میں اور چوہدری پرویز الہٰی اکٹھے ہیں۔
چوہدری وجاہت حسین نے کہا کہ میں اس پر چوہدری شجاعت حسین سے کہا کہ میں تو آپ کا پیغام دے دوں گا ، مگر نہ لوگ اندھے ہیں نہ بہرے ، ان کو نظر آتا ہے کہ ایک بھائی کے آگے پولیس ہے اور دوسرے بھائی کے پیچھے پولیس ہے ، میں ان کو کیا جواب دوں گا۔
چوہدری شجاعت کے چھوٹے بھائی کا کہنا تھا لوگ روز ٹی وی پر دیکھتے ہیں کہ ایک شخص شہباز شریف کے ساتھ کھڑا ہے جس کا گجرات کی سیاست سے تعلق ہی کوئی نہیں ہے، اور ایک ایف آئی اے سے اپنی ضمانتیں کروا رہا ہے۔
اس موقع پر ایم این اے چوہدری حسین الٰہی کا کہنا تھا کہ مخالفین کا دلیری سے مقابلہ کریں گے، اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں، ن لیگ کی حکومت چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الہیٰ پر مقدمات درج کروا رہی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں چوہدری شجاعت حسین کے فرزند چوہدری سالک حسین کے بطور وفاقی وزیر کے حلف اٹھانے اور چوہدری پرویز الہٰی کے فرزند حسین الہٰی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نامزد کیے جانے کے بعد مسلم لیگ ق عملاً دو حصوں میں تقسیم ہونے کی خبریں گردش کرتی رہی تھیں۔









