دعا زہرہ کی عمر 15 سال ہے ، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں انکشاف
قانونی ماہرین کا کہنا ہے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے بعد یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ دعا زہرہ کی عمر شادی کے لیے ناکافی تھی۔
جوڈیشنل مجسٹریٹ کے حکم پر بنائے گئے میڈیکل بورڈ نے دعا زہرہ کی عمر 15 سے 16 کے درمیان قرار دے دی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے بعد کیس نے نیا موڑ لیا ہے ، کیونکہ اب ظہیر احمد اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف اغواء اور جنسی ہراسگی کا کیس بنے گا۔
محکمہ صحت سندھ کے ہدایت پر بنائے گئے 10 رکنی میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ جوڈیشنل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کردی ہے ، جس کے مطابق دعا زہرہ کی عمر 15 سے 16 کے درمیان ہے۔
یہ بھی پڑھیے
دعا زہرہ میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش، دانتوں ، ہڈیوں اور جسم کے مختلف حصوں کے ٹیسٹ مکمل
وکیل کی ضمانت اور میڈیکل بورڈ تشکیل: دعا زہرہ کیس ایک نئے موڑ پر
واضح رہے کہ ہفتے کے روز دعا زہرہ کو 10 رکنی میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا۔
محکمہ صحت سندھ نے دعا زہرہ کی عمر کے تعین کے لئے ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل 10 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا۔ میڈیکل بورڈ کی سربراہی ڈاؤ میڈیکل کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر صبا سہیل کررہی ہیں۔
میڈیکل بورڈ نے دعا زہرہ کے دانتوں ، ہڈیوں اور جسم کے مختلف حصوں کے ٹیسٹ مکمل کیئے تھے ، جس کی رپورٹ آج میڈیکل بورڈ نے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت کے سامنے پیش کردی ہے۔
میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق دعا زہرہ کی عمر 15 سے 16 کے درمیان ہے ، جو کہ پنجاب اور سندھ کے قانون کے مطابق شادی کے لیے کم عمر تصور کی جاتی ہے۔ پنجاب کے قانون کے مطابق شادی کے لیے بچے یا بچی کی کم سے کم عمر 16 سال مقرر ہے جبکہ سندھ میں بچے یا بچی کی شادی کے لیے کم سے کم عمر کی حد 18 سال مقرر کی ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے بعد یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ دعا زہرہ کی عمر شادی کے لیے ناکافی تھی۔









