ضلع مردان میں پولیس چوکی پر دستی بم حملہ ، 1 پولیس اہلکار جاں بحق ، 4 زخمی
وزیراعلیٰ محمود خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع مردان کے چمتار پولیس چوکی پر دستی بم حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں 1 پولیس اہلکار شہید جبکہ 2 اہلکاروں سمیت 4 افراد زخمی ہو گئے ہیں، وزیراعلیٰ محمود خان نے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
ضلع مردان کے چمتار پولیس چوکی پر نامعلوم دہشتگردوں نے دستی بم سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک حوالدار جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ اے ایس آئی اور پولیس کانسٹیبل سمیت 2 شہری بھی زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
کسٹم عملے نے طورخم سرحد سے 39 ٹن یوریا کھاد کی اسمگلنگ ناکام بنا دی
ڈیفنس میں ڈکیتیاں کرنے والے کچے کے ڈاکو پولیس کی گرفت میں آگئے
دھماکے کے فوری بعد پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں ، بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرلیے ہیں جبکہ ریسکیو ٹیموں نے جاں بحق ہونے والے حوالدار مقصود کی لاش کو اور زخمیوں کو ایم ایم سی میڈیکل سینٹر منتقل کردیا ہے، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق حملے میں جاں بحق ہونے والے حوالدار کی شناخت مقصود کے نام سے ہوئی ہے جبکہ دیگر زخمیوں میں اے ایس آئی سہیل اور کانسٹیبل کریم شامل ہیں ، زخمی ہونے والے شہریوں میں محمد اسحاق اور سہیل خان شامل ہیں۔
دوسری جانب چمتار پولیس چوکی پر دستی بم حملے کی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سخت مذمت کی ہے اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو واقعے کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت ہے۔
وزیراعلیٰ نے حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کے لئے ضروری کارروائی کی ہدایت کی ہے ، وزیراعلی نے واقعے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکار کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے اسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوری بعد علاقے کی ناکہ بندی کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔









