عمران خان کے بعد شیریں مزاری کے گھر سے بھی جاسوسی کا آلہ برآمد
سابق وفاقی وزیر نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان کو مختلف حیلے بہانوں سے ہراساں کیا جارہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے دعویٰ کیا ہے کہ جاسوسی کے لئے ان کے گھر میں آلات نصب کئے گئے، ان کی خواب گاہ سے آواز محفوظ کرنے والا مشکوک آلہ برآمد ہوا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے پارٹی رہنما سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ سے بھی آواز محفوظ کرنے والا آلہ برآمد ہوا تھا اور اب ان کے گھر سے بھی مشکوک آلہ نکلا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ مشکوک آلہ ان کی خواب گاہ میں میں کی دراز میں رکھا گیا تھا جو امریکی ساختہ آواز ریکارڈ کرنے کا آلہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سیاسی ، قانونی اور انتظامی معاملات کے لیے پی ٹی آئی کی خصوصی کمیٹی تشکیل
زرداری کی سمجھوتے کی سیاست نے ن لیگ کا بھی بیڑا غرق کردیا
شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ علم نہیں ہے کہ ان کی خواب گاہ میں یہ آلہ کس نے لگایا؟۔گھریلو ملازم کو دھمکیاں دی گئیں کہ بیٹے کو مار دیں گے۔ ایسے بیہودہ کاموں کےلئے غریب طبقے کو استعمال کیا جاتاہے۔ نہیں جانتی کے وہ ان کی خواب گاہ سے کیا معلومات لینا چاہ رہے تھے۔
ان کا کہنا تھاکہ ملک میں آئین و قانون کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں، سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان پر دباؤ ڈالنے کے لئے پہلے انہیں کس نے اغوا کروایا تھا ۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی والوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ کوئی صحافی بولتا ہے تو اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروا دی جاتی ہے۔ ان کے خلاف بھی 4 مقدمات درج کیے گئے۔
شیریں مزاری نے الزام عائد کیا کہ اصف زرداری نے اپنے دور میں کھل کر بلیک واٹر کو ویزے جاری کئے۔
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ شیریں مزاری کے گھر ڈیوائس لگانا انتہائی خطرناک اور قابل مذمت ہے ۔ علم نہیں کہ کتنے اور افراد کے گھروں ، دفتروں میں ایسے آلات نصب کئے گئے ہیں۔









