سابق ڈی جی انٹیلی جنس بیورو آفتاب سلطان چیئرمین نیب تعینات

سلطان دو مرتبہ آئی بی کے ڈی جی کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور وہ گریڈ 22 کے افسر کے طور پر سینئر پوسٹوں پر محکمہ پولیس سے بھی وابستہ رہے ہیں۔

انٹیلی جنس بیورو کے سابق ڈائریکٹر جنرل آفتاب سلطان کو قومی احتساب بیورو( نیب)  کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ آفتااب سلطان کی تقرری کی منظوری آج کی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی گئی۔

اتحادی جماعتوں نے سابق ڈی جی انٹیلی جنس بیورو آفتاب سلطان کو چیئرمین نیب تعینات کرنے کی تجویز کی مخالفت کی تھی، تاہم مسلم لیگ ن نے مشاورت کی اور بالآخر ان کی تقرری کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب: سیکریٹری اسمبلی کی جانب ضابطہ اخلاق جاری

مال روڈ پر187 ارکان اسمبلی موجود ہیں، فواد چوہدری کا دعویٰ

ذرائع کے مطابق قائد ایوان شہباز شریف اور قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کے درمیان تقرری پر معاہدہ ہوا، جس کے وفاقی کابینہ نے چیئرمین نیب کی تقرری کی منظوری دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے وفاقی ادارہ برائے احتساب (نیب) کے لیے چیئرمین کے لیے تین ناموں پر تبادلہ خیال کیا تھا "جن ناموں پر مشاورت کی گئی تھی ان میں سابق بیوروکریٹ فواد حسن فواد، سابق چیئرمین نیب قمر الزمان اور سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن شامل تھے۔”

سلطان دو مرتبہ آئی بی کے ڈی جی کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور وہ گریڈ 22 کے افسر کے طور پر سینئر پوسٹوں پر محکمہ پولیس سے بھی وابستہ رہے ہیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال قومی احتساب (ترمیمی) آرڈیننس کی منظوری کے بعد اپنی چار سالہ سرکاری مدت کے خلاف چار سال تین ماہ تک چیئرمین نیب رہے جس کے بعد انہیں اپنے جانشین تک اس عہدے پر رہنے کی اجازت دی گئی۔

اس سے قبل ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت نے اس عہدے کے لیے جج مقرر کرنے کے بجائے ایک سابق بیوروکریٹ کو چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) مقرر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

متعلقہ تحاریر