حکومتی نااہلی اور غیر یقینی سیاسی صورتحال نے ڈالر کو 233 روپے پر پہنچا دیا

انٹر بینک میں ڈالر 3 روپے 12 پیسے اضافے سے 233 اور اوپن مارکیٹ میں 235 روپے کا ہوگیا

پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ ہوگیا۔ آج  انٹر بینک میں ڈالر 3 روپے 12 پیسے اضافے سے233 روپے پر بند ہوا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 235 روپے تک جا پہنچا ہے ۔

انٹربینک میں ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے اور ایک ڈالر کی قیمت 233 روپے ہوگئی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق  آج انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت می 3 روپے 12 پیسے کا اضافہ ہوا جس کے بعد  ڈالر 233 روپے پر بند ہوا ۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت یو اے ای کی ڈھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر ملکی قوانین بدلنے پر تیار

فارن ایکسچینج ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق  اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 2 روپے 50 پیسے کا اضافہ ہوا۔ ڈھائی روپے مہنگا ہونے کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر 235 روپے پر فروخت ہوا ۔

واضح رہے کہ شہباز شریف حکومت میں ڈالر مہنگا ہونے کی نصف سینچری مکمل ہوگئی ہے ۔وزیر اعظم شہباز شریف کے حلف لینے کے موقع پر پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 182 روپے کی سطح کے قریب تھی۔

معاشی ماہرین کے مطابق ساڑھے 3 ماہ میں امریکی کرنسی نے پاکستانی روپیہ بری طرح روند ڈالا ہے ۔ گزشتہ ساڑھے 3 ماہ کے دوران امریکی ڈالر روز بروز تاریخ کی بلند ترین سطح پر نظر آتا ہے ۔

معاشی تجزیہ کاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ متفقہ روپے کی قدر سے متعلق شرائط پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ فوری طور پر مشاورت کریں تاکہ غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوسکے ۔

متعلقہ تحاریر