عدالتی اصلاحات: کیا مخلوط حکومت نامکمل پارلیمنٹ کے ساتھ قانون سازی کرپائے گی؟
شہباز شریف کی مخلوط حکومت نے نامکمل پارلیمنٹ کے بنیادی مسئلے سے نمٹنے کے بجائے عدالتی اصلاحات پر قانون سازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کی مخلوط حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین قومی اسمبلی (ایم این ایز) کے استعفوں کو قبول کرنے اور ضمنی انتخابات کرانے کے مسئلے سے نمٹنے کی بجائے عدالتی اصلاحات کے حوالے سے قانون سازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارلیمنٹ کے تازہ ترین اقدام نے مختلف شعبوں میں قانون سازی سے قبل پی ٹی آئی کے مستعفی ہونے والے اراکین اسمبلی کی خالی نشستوں کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔ ایک سوال یہ بھی پیدا ہوا کہ کیا ملک میں کسی بڑی سیاسی جماعت کی عدم موجودگی میں مخلوط حکومت کے لیے قانون سازی کرنا ممکن ہو سکے گا۔
عدالتی اصلاحات یا سپریم کورٹ کے اختیارات میں کمی
گزشتہ روز قومی اسمبلی سے منظور ہونے والی قرارداد کے مطابق عدالتی اصلاحات کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
قومی اسمبلی کا رواں اجلاس 3اگست تک جاری رکھنے کا فیصلہ
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان کا ماننا ہے کہ پارلیمنٹ پاکستان کا سپریم قانون ساز ادارہ ہے، جس کے تحت آئین میں ترامیم سمیت قوانین کا نفاذ پارلیمنٹ کا واحد استحقاق ہے۔
قرار داد میں کہا گیا ہے آئین کی رو سے ریاست کے تین ستون ہوتے ہیں مقننہ، ایگزیکٹو اور عدلیہ۔ آئین تینوں ستوں کے درمیان حدود کو متین کرتا ہے ۔
آئین کی رو سے قانون سازی کا اختیار مقننہ ہے ، ایگزیکٹو کو اختیارات کی علیحدگی کے نظریے کے تحت ایسے قوانین پر عملدرآمد کرنے کا کام سونپا گیا ہے، عدلیہ کو اختیارات کی علیحدگی کے نظریے کے تحت قوانین کی تشریح کرنے کا کام سونپا گیا ہے اور ریاست کا کوئی بھی ادارہ اپنی حدود سے تجاوز نہیں کر سکتا اور نہ دوسرروں کے اختیارات میں مداخلت کرسکتا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کے آئین نے اس پارلیمنٹ کو کچھ آئینی مینڈیٹ سونپے ہیں جن میں آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کی تقرریوں کی تصدیق کا اختیار بھی شامل ہے۔
وزیر قانون کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کے مطابق عدالتی اصلاحات، پارلیمانی خودمختاری، آئین کی بالادستی اور ریاست کے تمام ستونوں کے درمیان طاقت کا توازن میثاق جمہوریت کا دیرینہ ایجنڈا ہے۔
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ پارلیمنٹ پاکستانی عوام کی مرضی کی نمائندہ ہونے کے ناطے کسی دوسرے ادارے کو اس کے اختیارات سے تجاوز کی اجازت نہیں دے گی۔
اس لیے یہ ایوان ، پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ایوان کا اجلاس (آج) جمعرات کو شام 4 بجے دوبارہ ہوگا۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا ہے کہ "قومی اسمبلی میں میری تقریر کا بنیادی مقصد جمہوری نظام کو آسانی سے اور مؤثر طریقے سے کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے آئین کے متعین کردہ دائرہ کار میں رہ کر کام کریں۔”
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "اگر ہم اس کو نہ سمجھ پائے تو ہم کہیں نہیں پہنچیں گے بلکہ ایک دائرے میں گھومتے رہیں گے۔”
نامکمل پارلیمنٹ
ایوان زیریں سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین اسمبلی نے رواں سال اپریل کے مہینے میں نئے وزیراعظم کے انتخاب سے قبل اپنی اسمبلی نشستوں سے استعفیٰ دے دیا تھا اور وہ نشستیں ابھی تک خالی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ مخلوط حکومت کو عدالتی یا انتخابی اصلاحات کے حوالے سے قانون سازی کرنے سے پہلے پارلیمنٹ کو مکمل کرنا چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ شہباز شریف حکومت سب سے پہلے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کرے اور پھر ان نشستوں پر ضمنی انتخابات کرائے اور ایوان کو مکمل کرے ورنہ بنیادی ادارہ جاتی اصلاحات پر قانون سازی بے معنی رہے گی۔









