امریکا میں ملازمت کرنیوالے پاکستانی ڈاکٹرز کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

پاکستان تاحال ڈبلیو ایف ایم ای کی منظوری حاصل نہیں کرسکا ہے، جنوری 2024 میں عالمی باڈی کی ڈیڈ لائن پوری ہونے کے بعد پاکستانی ڈاکٹرز امریکا میں ملازمت نہیں کرسکیں گے، میڈیا رپورٹ: پاکستان میڈیکل کمیشن نے پابندی کی خبروں کو جھوٹا قراردیدیا

پاکستانی حکام کی مبینہ لاپروائی کے باعث امریکا میں ملازمت کرنے والے پاکستانی ڈاکٹرز کا مستقبل داؤ پر لگ گیا۔

پاکستان تاحال ورلڈ فیڈریشن فار میڈیکل ایجوکیشن ( ڈبلیو ایف ایم ای) کی منظوری حاصل نہیں کرسکا ہے،عالمی ادارے کی جانب سے دی گئی جنوری 2024 کی ڈیڈ لائن تیزی سے قریب آرہی ہے۔ جس کے بعد پاکستانی ڈاکٹرز امریکا میں کام نہیں کرسکیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

طبی ماہرین نے فضائی آلودگی کو پاکستان کے لیے سب بڑا خطرہ قرار دے دیا

امریکا کا پاکستانی بچوں کے لیے 1 کروڑ 60 لاکھ کووڈ ویکسین دینے کا اعلان

روزنامہ ڈان میں اتوار کو شائع ہونےوالی خبر کے مطابق پاکستان میں میڈیکل یونیورسٹیز اور کالجز کے معاملات کی نگران سابقہ باڈی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ڈبلیو ایف ایم ای  سے منظوری حاصل کرنے کے لیے درخواست دیتے ہوئے اس کے وفد کو دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی تاہم 2019میں پی ایم ڈی سی کو صدارت آرڈیننس کے ذریعے تحلیل کرکےپاکستان میڈیکل کمیشن(پی ایم سی) قائم کردیا گیا جس کے بعد ڈبلیو ایف ایم ای کا دورہ پاکستان ملتوی کردیا گیا۔

ڈبلیو ایف ایم ای سےمنظوری حاصل کرنے کے لیے  پاکستان کے پاس جنوری 2024 تک کا وقت ہے اور  پی ایم سی  ایکٹ اس وقت عالمی ادارے سے منظوری حاصل کرنے کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

دوسری جانب پی ایم سی نے دعویٰ کیا کہ اس نے منظوری کے لیے درخواست کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا ہے  اورڈبلیو ایف ایم ای کی جانب سے سائٹ کے دورے سمیت پوری کارروائی میں 12 سے 15 ماہ لگنے کی توقع ہے یوں یہ عمل جنوری 2024 کی ڈیڈ لائن کے اندر اندر مکمل ہوجائے گا۔

وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق امریکا میں کام کرنے والے ڈاکٹروں میں سے تقریباً 25 فیصد غیر ملکی قابلیت کے حامل ہیں۔یو ایس ایجوکیشنل کمیشن فار فارن میڈیکل گریجویٹس (ای سی ایف ایم جی) نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ  غیر ملکی گریجویٹس کا معیار منافع کیلیے قائم کیے گئے نجی میڈیکل کالجز کی بہتات کی وجہ سے خراب ہورہا ہے،21 ستمبر 2011 کواعلان کیا تھا کہ جنوری 2023 کے بعد صرف ڈبلیو ایف ایم ای  سے تسلیم شدہ ممالک کے گریجویٹس کو ہی امریکا کے میڈیکل لائسنسنگ امتحانات (USMLE) میں حاضر ہونے کی اجازت دی جائے گی بعدازاں عالمی وبا کے باعث آخری تاریخ کو جنوری 2024تک توسیع دیدی گئی۔

اگرچہ پی ایم ڈی سی نے ڈبلیو ایف ایم ای سے منظوری حاصل کرنے کا عمل شروع کردیا تھا لیکن اسے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کالعدم قراردیدیا گیا ور اسکی جگہ پی ایم سی قائم کردی گئی۔پی ایم سی نے خود کو لائسنس تفویض کرنے والاادارہ قرار دینا شروع کردیا اور یوں میڈیکل کالجز کے معائنے کے اختیارات جامعات کے ہاتھ میں آگئے اور پی ایم سی کا ملک کے میڈیکل کالجز پر سے کنٹرول عملاً ختم ہوگیا۔

بروقت اقدامات کرنے میں ناکامی کی صورت میں، پاکستان ڈیڈ لائن سے محروم ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے پاکستانی میڈیکل کالجوں کے گریجویٹ امریکہ میں طب کی مشق کرنے سے قاصر ہیں۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پی ایم سی نے ڈبلیو ایف ایم ای کا دورہ منسوخ کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ2024 تک منظوری حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ مطالبات کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں تعلیم کا معیار، کالجوں کے معائنے کا معیار، قواعد، فیکلٹی اور بہت سی دوسری چیزیں شامل ہیں ۔

 دوسری جانب پی ایم سی نے ایک تحریری بیان میں دعویٰ کیا کہ اس نےڈبلیو ایف ایم ای سے منظوری حاصل کرنے کیلیے  باضابطہ طور پر درخواست کا عمل شروع کر دیا ہے۔ڈبلیو ایف ایم ای کےدورے سمیت پوری کارروائی میں 12 سے 15 ماہ لگنے کی توقع ہے یوں یہ عمل جنوری 2024 کی ڈیڈ لائن کے اندر اندر مکمل ہوجائے گا۔

  بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن ڈبلیوایف ایم ای سمیت دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے گا تاکہ ڈبلیو ایف ایم ای   کےدورے سے قبل تمام شرائط کی تکمیل کو ممکن بنایا جاسکے ۔

ڈبلیو ایف ایم ای سے منظوری حاصل کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے جس  کیلیے اپنے مکمل کورس کو مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے اور اس حوالے سے  وسیع ڈیٹا اور معلومات جمع کروائی گئی ہیں  جبکہ پی ایم سی اور منتخب کردہ میڈیکل کالجز کے معائنے سے قبل ڈبلیو ایف ایم ای کے مروجہ طریقہ کار کے مطابق تمام مراحل کا جائزہ لیا جاچکا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈبلیو ایف ایم ای سے منظوری  کے عمل کی تیاری کے لیے کمیشن نے وسیع کوششیں کی ہیں اور تقریباً 18 ماہ تک کام جاری رکھا ہے، جو اب مکمل ہو چکا ہے۔

دوسری جانب پاکستان میڈیکل کمیشن نے اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل  پرجاری بیان میں  پاکستانی ڈاکٹرز اور طلبہ پر امریکا میں ملازمت اور تربیت پر پابندی سے متعلق میڈیا میں زیرگردش جھوٹی خبروں کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی ڈاکٹرز اور طلبہ پر امریکا میں ملازمت اور تربیت حاصل کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔

متعلقہ تحاریر