ظہیراحمد کی سندھ ہائیکورٹ دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت

جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی حکم عدولی نہیں ہوئی پولیس مقدمہ کررہی ہے وہ جانے اور خدا جانے

کراچی کی کم عمرلڑکی دعا زہرا کو بہلا پھسلا کر شادی کرنے والے  لڑکے ظہیراحمد نے سندھ ہائیکورٹ دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کردی ہے ۔ درخواست میں پراسکیوٹر جنرل سندھ اور کیس کے تفتیشی افسر سعید رند کو فریق بنایا گیا ہے۔

دعا زہرا کے مبینہ اغوا میں ملوث ظہیراحمد کے وکیل کی جانب سے  سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں کیا گیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے مغویہ کی بازیابی کے کیس میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا تھا کہ چائلڈ ریسٹرین میرج ایکٹ کا کیس نہیں بنتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

دعا زہرا کیس: پولیس نے عدالت میں پروگریس رپورٹ جمع کروادی

وکیل درخواست گزار  نے کہا کہ تفتیشی افسر کی جانب سے پروگراس رپورٹ جمع کرائی گئی ہے۔ تفتیشی افسر نے چائلڈ ریسٹرین میرج ایکٹ کی سیکشن بھی لگائی ہے۔

جسٹس اقبال کلہوڑو کا درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ عدالتی احکامات کی کہاں خلاف ورزی ہوئی ہے وہ بتائیں ۔ جسٹس اقبال کلہوڑو  نے  ریمارکس دیئے کہ عدالتی حکم عدولی نہیں ہوئی پولیس مقدمہ کررہی ہے وہ جانے اور خدا جانے ۔

یہ بھی پڑھیے

دعا زہرہ کیس: مقامی عدالت نے یوٹیوبرز کو پروپیگنڈا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے روک دیا

ملزم ظہیراحمد  کے وکیل نے عدالت سے تیاری کے لیے  مزید مہلت مانگ لی ۔ عدالت نے درخواست کے قابل  سماعت ہونے پر 18 اگست کو دلائل طلب کرلیے  ہیں۔

متعلقہ تحاریر