سندھ میں جنسی زیادتی کے واقعات، ہائیکورٹ کی حکومت اور پولیس سے جواب طلبی
سندھ ہائی کورٹ میں اینٹی ریپ ٹرائل اینڈ انوسٹی گیشن ایکٹ 2021 پر عمل درآمد کے لیے درخواست کی سماعت ہوئی جس میں پرنسپل سیکریٹری وزیر اعظم ، چیف سیکریٹری اورآئی سندھ کو نوٹس جاری کردیئے ہیں

سندھ ہائیکورٹ میں صوبے میں گینگ ریپ، بچیوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کے معاملے پرسماعت ہوئی۔ عدالت نے درخواست کی فوری سماعت کی استدعا پر فریقین کو نوٹس جاری کردئیے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ میں اینٹی ریپ ٹرائل اینڈ انوسٹی گیشن ایکٹ 2021 پر عمل درآمد کے لیے درخواست کی سماعت ہوئی ۔ دوران سماعت طارق منصور ایڈووکیٹ نے کہا کہ گینگ ریپ ٹرائل کے لیے قانون بنا مگر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
ایبٹ آباد میں 3 سالہ بچہ ماموں زاد بھائی کے ہاتھوں زیادتی کے بعد قتل
طارق منصور ایڈووکیٹ نےعدالت کو بتایاکہ حالیہ دنوں میں کئی علاقوں میں افسوسناک واقعات رونما ہوئے۔ قانون پر عمل داری نہ ہونے سے جنسی زیادتی کے کیسز متاثر ہورہے ہیں۔
طارق منصور ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ ایسے واقعات روکنے اور شفا تیز ترین ٹرائل یقینی بنانے کی ہدایت دی جائے جس پر عدالت نے پرنسپل سیکرٹری وزیراعظم پاکستان، وفاقی سیکرٹری قانون سے جواب طلب کرلیا ہے ۔
عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیف سیکرٹری سندھ ، آئی جی سندھ، سیکرٹری قانون سندھ، ڈی جی نادرا کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 16 اگست کو جواب طلب کرلیا ہے ۔ عدالت نے پولیس حکام کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ہر صورت جواب جمع کرایا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
اسلام آباد میں نامعلوم شخص کی پیزا بوائے سے جنسی زیادتی
خیال رہے کہ سندھ میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں رواں سال جنوری سے مئی تک 62 خواتین سفاک درندوں کا نشانہ بنیں جبکہ 150 کیسز رپورٹ نہ ہو سکے۔
کراچی میں جنسی زیادتی کے سب سے زیادہ 38 واقعات پیش آئے۔حیدر آباد میں جنسی زیادتی کے 10 کیسز، میرپورخاص میں 5، سکھر میں 4، بے نظیر آباد میں 3 جبکہ لاڑکانہ میں 2 واقعات پیش آئے۔









