نواز شریف برطانوی شہری کے دفتر سے مسلم لیگ (ن) چلا رہے ہیں

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے غیرملکیوں سے فنڈز لینے کی پاداش میں پی ٹی آئی کے خلاف فیصلہ آگیا تو کیا ن لیگ جواب دے گی کہ نواز شریف برطانوی شہری کے دفتر میں بیٹھ کو پاکستانی سیاست کو کیوں کنٹرول کررہے ہیں۔

پاناما کیس میں پاکستانی عدالتوں کو مطلوب حسن نواز اور حسین نواز کا کہنا ہے ہم برطانوی شہری ہیں تو کیسے کوئی پاکستانی عدالت ہمیں طلب کرسکتی ہے ، مگر میاں نواز شریف جو سابق وزیراعظم بھی ہیں انہی برطانوی شہریوں کے دفتر میں بیٹھ کر پاکستان کی سیاست کو کنٹرول کررہے ہیں ، تو کوئی ہے جو ان سے اس بات کا جواب طلب کرے۔

2017 میں جب پاناما کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز اور حسین کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سمن جاری کیے گئے تھے تو اس وقت جیو نیوز کے رپورٹر مرتضی علی شاہ کو انٹرویو دیتے ہوئے حسن نواز کہا تھا کہ ہم پر نیب کی کارروائی کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ ہم دونوں بھائی برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

نیب نے ملکی معیشت میں کیا حصہ ڈالا ؟ سپریم کورٹ نے جواب طلب کرلیا

جوڈیشنل کمیشن اجلاس کے بعد چیف جسٹس کو چوتھا خط، سندھ ہائیکورٹ کے ججز سے متعلق گفتگو پر اظہار افسوس

10 اکتوبر 2017 میں احتساب عدالت نے پیش نہ ہونے پر حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دے دیا۔

احتساب عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع پر ردعمل دیتے ہوئے حسین نواز اور حسن نواز نےکہا تھا ہمیں ابھی تک کوئی سمن موصول نہیں ہوا۔

احتساب عدالت کا بیان

دوسری جانب احتساب عدالت نے اپنا موقف دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ حسن اور حسین کو اشتہاری مجرم قرار دینے کے عمل میں اخبارات میں نوٹس کی اشاعت شامل ہوگی جس میں ملزمان کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی جائے گی اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں جائیداد ضبط کی جائے گی اور مزید وارنٹ جاری کیے جائیں گے۔

حسن نواز کا ردعل

نیب کی جانب سے دائر ریفرنسز پر ردعمل دیتے ہوئے حسن نواز نے جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی پاکستانی عدالت انہیں اشتہاری قرار نہیں دے سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب  کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں کہ وہ کسی کو اشتہاری قرار دے۔ نیب والے جرم کی غیرموجودگی میں اندھیرے میں کالی بلی کو پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حسن نواز نے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ انہیں لندن میں اپنے رہائشی پتے پر نیب کا کوئی سمن موصول نہیں ہوا جہاں وہ گزشتہ 24 سالوں سے مقیم ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے حسن نواز اور حسین نواز اپنے آپ کو برطانوی شہری کہتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر کیسے سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف انہی برطانوی شہریوں کے دفتر میں بیٹھ کو پاکستانی سیاست کو کنٹرول کرکے رہے ہیں اور پاکستانی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کررہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ غیرملکیوں سے فنڈز لینے کی پاداش میں پی ٹی آئی اس کے خلاف فیصلہ آگیا ہے مگر برطانوی شہری کے دفتر میں بیٹھ کے ن لیگ کی ٹاپ لیڈرشپ پاکستانی سیاست کو کنٹرول کرتی ہے تو کیا ن لیگ میں سے اس کا بھی کوئی جواب دے گا۔

متعلقہ تحاریر