کیا آپ نے پتھر کی روٹی کھائی ہے۔؟
پتھر پر پکائی جانے والی روٹی عام لوگوں اور بالخصوص گلہ بانوں میں بہت مقبول ہے جو پہاڑوں اور ویرانوں میں بکریاں چرانے کے دوران پکاتے ہیں۔
کوئی آپ سے دریافت کرے کہ کیا آپ نے پتھر کی روٹی کھائی ہے تو آپ یقیناً حیران ہوں گے کہ کیا پتھر کی بھی روٹی ہوتی ہے تو آئیے آپ کو بتائیں کہ بلوچستان میں صدیوں سے پکائی جانے والی روایتی روٹی جسے کاک ، کرنو اور پتھر کی روٹی بھی کہا جاتا ہے، صوبے کی روایت کا اہم حصہ ہے۔
بلوچستان میں اب بھی سڑکیں کمیاب اور راستے دشوار گزار ہیں۔ صدیوں سے سنگلاخ پہاڑی رستوں پر چلنے والے قافلے پتھر کی روٹی کھاتے ہیں ۔
آج بھی یہ روٹی بلوچستان کے سب سے بڑے پیشے سے گلہ بانی سے وابستہ چرواہوں کی خوراک ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان کا 75واں یوم آزادی اور مستقبل کے تقاضے
لاہور میں تحریک انصاف کا جلسہ: عمران خان نے ملک گیر تحریک کا اعلان کردیا
آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ پتھر کی روٹی کیسی ہوتی ہے، اسے کس طرح بنایا جاتا ہے اور یہ روٹی سفر میں کس طرح مفید ثابت ہوتی ہے۔
بلوچستان چٹیل میدانوں ، سنگلاخ چٹانوں اور دشت و بیابانوں کی سرزمین ہے جہاں بلوچ اور پشتون قبائل اکثر پہاڑوں میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ پتھر کی روٹی یا کاک بلوچ اور پشتون ثقافت کا اہم پکوان ہے۔
بلوچستان کے قبائل اور پتھر کا ساتھ زمانہ قدیم سے رہا ہے۔ انہیں پتھروں کو استعمال کرکے گندم کے آٹے کی روٹی پکائی جاتی ہے۔
بلوچ اور براہوی قبائل اس روٹی کو ’کرُنو‘ کہتے ہیں۔
پتھر پر پکائی جانے والی روٹی عام لوگوں اور بالخصوص گلہ بانوں میں بہت مقبول ہے جو پہاڑوں اور ویرانوں میں بکریاں چرانے کے دوران پکاتے ہیں۔
بلوچستان کے قبائلی افراد کہتے ہیں کہ یہ ایک آسان اور سہل طریقہ ہے جہاں آپ پہاڑوں پر سفر کر رہے ہوں اور آپ کو روٹی کی طلب ہو کیونکہ یہ روٹی بہت دن تک خراب نہیں ہوتی۔
بلوچستان کے اکثر علاقے جہاں آج بھی زندگی کی بنیادی سہولیات موجود نہیں وہاں سفر کے دوران قبائلی افراد روایتی روٹی کھا کر گزارہ کرتے ہیں۔
یہ روٹی صدیوں پرانے طریقہ کے تحت پکائی جاتی ہے۔
کاک پکانے کے لئے سب سے پہلے کم پانی کے ساتھ آٹا گوندھنا جاتا ہے اور گول پتھر تلاش کئے جاتے ہیں۔ جنہیں صاف کرکے دھکتی ہوئی آگ میں رکھ دی جاتا ہے جو تپ کر سفید ہو جاتے ہیں۔ پھر آٹا ان گرم پتھروں پر مونڈھ دیا جاتا ہے اور آٹے میں لپٹے یہ گول پتھر آگ کے قریب رکھ دیے جاتے ہیں اور وقتاً فوقتاً انہیں پلٹا جاتا ہے۔ یہاں تک کے پتھروں پر مونڈھا گیا آٹا گرم پتھروں اور باہر سے ملنے والی تپش کے سبب روٹی کی صورت میں پک جاتا ہے اور پھر کئی روز تک یہ موٹی روٹی کھانے کے قابل رہتی ہے۔
چرواہے ایک مرتبہ یہ روٹی پکا لیتے ہیں اور کئی روز تک یہ روٹی کھا کر گزر بسر کرتے ہیں۔









