ضمانت منسوخ: اینٹی انکروچمنٹ حکام نے حلیم عادل کو گرفتار کرلیا
انسداد تجاوزات حکام کا کہنا ہے حلیم عادل شیخ پر سرکاری اراضی پر تجاوزات قائم کرنے کا الزام ہے۔
کراچی کی اینٹی انکروچمنٹ عدالت سے ضمانت منسوخ ہونے پر اینٹی انکروچمنٹ حکام پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کو حراست میں لے لیا۔
انسداد تجاوزات حکام کا کہنا ہے کہ حلیم عادل شیخ کو حراست میں لیا گیا ہے کیونکہ ان پر سرکاری اراضی پر تجاوزات بنانے کا الزام ہے۔ ملزم تحقیقات میں شامل نہیں ہورہے۔
یہ بھی پڑھیے
شمالی سندھ میں کاروکاری کے واقعات میں اضافہ، رواں سال 123 افراد قتل
دعا زہرہ کے ایم ایل او آرڈر کو کسی درست فورم پر چیلنج کریں گے، جبران ناصر
اینٹی انکروچمنٹ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم حلیم عادل شیخ کو 12 نوٹسز بھیجے مگر وہ پیش نہیں ہوئے اور نہ ہی بیان ریکارڈ کرایا۔
حلیم عادل شیخ کی گرفتاری
رواں سال 27 جولائی کو تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ اپنے مقدمے کی سماعت کے لیے جامشورو پہنچے تو انہیں اینٹی کرپشن کے ڈائریکٹر ذیشان میمن نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا ، اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔
حلیم عادل شیخ کے گارڈز نے اینٹی انکروچمنٹ حکام کو روکنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے اجازت نہیں دی۔
حلیم عادل شیخ کو مقدمات واپس لینے کی پیشکش
اس کے اگلے ہی روز 28 جولائی کو سندھ حکومت نے تحریک انصاف کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ کو مقدمات واپس لینے کی مشروط پیشکش کی۔
سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت نے کسی کے خلاف جھوٹا مقدمہ نہیں بنایا، تنقید کرنے والوں کے خلاف انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتی۔
شرجیل میمن نے حلیم عادل شیخ کو پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ آپ سرکاری زمین پر قبضہ چھوڑ دیں اور متاثرین سے جو پیسے لیے ہیں وہ واپس کر دیں، حکومت کیس واپس لے گی، کیونکہ آپ کے خلاف بہت سی شکایات ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ محکمہ اینٹی کرپشن آزادانہ کام کرتا ہے، گرفتار ایم پی اے کے خلاف اینٹی کرپشن تحقیقات کر رہی تھی، سرکاری اراضی سوسائٹی، سیہون ڈویلپمنٹ پر تجاوزات کے الزامات ہیں، پولٹری فارم ہاؤس بنانے کا الزام ہے۔ اگر عدالتیں یہ سمجھتی ہیں کہ یہ سب جائز ہے، تو انہیں ضرور چھوڑ دیں۔









