ممنوعہ فنڈنگ کیس، اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے وضاحت مانگ لی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اپیل کی سماعت 24 اگست تک ملتوی کردی۔
ممنوعہ فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کو الیکشن کمیشن کے فیصلہ پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے حکم امتناع نہ مل سکا، آئندہ سماعت 24 اگست کو ہوگی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کی ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں لارجر بینچ نے اپیل کی سماعت کی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابر ستار بھی بینچ میں شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیے
توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وکیل دستاویزات فراہم کریں، الیکشن کمیشن
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تحویل مجرمان کا مشروط معاہدہ طے پاگیا
جسٹس بابر ستار نے درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ یہ 70 کی دہائی نہیں کہ کسی جماعت کو کو پاگل پن میں تحلیل کردیا جائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے وکیل انور منصور خان نے دلائل دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی کے خلاف کسی بھی کارروائی سے روکا جائے۔
ان کا کہنا تھاکہ 2018 میں تمام جماعتوں کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال شروع ہوئی، لیکن الیکشن کمیشن نے صرف پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی کی اور اس حوالے سے پی پی او 2002 کے قانون کا نفاذ کیا۔
انور مجید نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے الگ قانون پر انحصار کر کے رپورٹ دی۔
انور منصور نے موقف اختیار کیا کہ قواعد کے مطابق غیر قانونی فنڈنگ کیس میں صرف اور صرف فنڈز ضبط ہو سکتے ہیں، کسی جماعت کی معلومات پی پی او کے مطابق نہ ہو تو درستی کا موقع بھی دیا جاسکتا ہے اور الیکشن کمیشن دوبارہ معلومات درست کر کے جمع کرانے کا کہہ سکتا ہے۔
عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ قانون میں یہ ضرور لکھا ہے کہ صرف انفرادی فنڈز لینے ہیں، کیا آپ الیکشن کمیشن کی آبزرویشن حذف کرانا چاہتے ہیں؟۔
سپریم کورٹ کا کہنا تھا یہ تو صرف ایک رپورٹ ہے الیکشن کمیشن کا ایکشن نہیں، ابھی تک صرف شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نصر نے رمیتا شیٹھی سے شادی کی دونوں کے جوائنٹ اکاؤنٹ سے 13 ہزار ڈالر آئے ، لیکن الیکشن کمیشن نے خود تصور کر لیا کہ آدھی رقم رمیتا شیٹی اور آدھی ان کے شوہر کی طرف سے تھی، 13 ہزار ایک سے 13 ہزار دوسرے سے آئے، پی ٹی آئی کے اپنے ایجنٹس کو فارن کمپنیاں دکھا دیا گیا ، حقیقت تو ہم نے کبھی چھپائی ہی نہیں تھی کہ پی ٹی آئی کو ووٹن کرکٹ سے رقم 2013 میں آئی ، قانون میں یہ نہیں لکھا انفرادی شخص کے علاوہ کسی سے فنڈ نہیں لینا۔
انور منصور نے کہا کہ وفاقی حکومت اور ایف آئی اے نے الیکشن کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر ایکشن لینے شروع کردیے ہیں۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن نے دائرہ اختیار سے باہر جو اقدامات کئے انہیں معطل کیا جائے۔
جسٹس بابر ستار کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی کے وکیل ہمیں صرف اپنے تحفظات سے آگاہ کریں۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے حقائق توجا کر ٹھیک نہیں کر سکتے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کیس فیصلے کے خلاف درخواست قابلِ سماعت ہونے پر سماعت 24 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے دو روز قبل لارجر بنچ تشکیل دیا تھا۔









