فیصل آباد تشدد کیس : متاثرہ طالبہ کی ملزم شیخ دانش سے دوستی تھی

اہلیہ کو تعلق کا علم ہوا تو ملزم شیخ دانش پیچھے ہٹ گیا اور خدیجہ کو مورد الزام ٹھہرادیا، ملزم کی بیٹی شیخ انا نے ضمانت کیلیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

فیصل آباد تشدد کیس میں  اہم انکشافات کا سلسلہ جاری ہے۔ نیوز 360 کیس کے اہم پہلو کا کھوج لگاتے ہوئے  اصل کہانی سامنے لے آیا۔

نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق تشدد کا نشانہ بننے والی طالبہ خدیجہ کا کیس کے مرکزی ملزم اور فیصل آباد کے مشہور تاجر شیخ دانش سے معاشقہ چل رہا تھا۔ذرائع کے مطابق متاثرہ طالبہ خدیجہ کی مرکزی ملزم شیخ دانش کی بیٹی  انا شیخ کے ساتھ  اسکول کے زمانے سے دوستی تھی اور دونوں کا ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

فیصل آباد: تاجر کا شادی سے انکار پر بیٹی کی دوست کو اغوا کرکے بہیمانہ تشدد

خدیجہ تشدد کیس: فیصل آباد پولیس پر شیخ دانش کی رہائی کیلئے شدید سیاسی دباؤ

ذرائع کے مطابق گھر میں آنے جانے کے باعث مبینہ طور پر خدیجہ کی اپنی دوست کے والد شیخ دانش سے دوستی ہوگئی تاہم شیخ دانش کی اہلیہ اس دوستی سے کافی عرصے تک لاعلم رہی تاہم کچھ عرصے بعد ملزم کی اہلیہ اور بیٹی کو اس دوستی کا علم ہوا تو شیخ دانش نے خود کو بے قصور ثابت کرتے ہوئے تمام الزام خدیجہ کے سر ڈال دیا۔

ذرائع کے مطابق شیخ دانش کے ساتھ تعلقات کا راز فاش ہونے کے بعد ہی خدیجہ ایک  سوشل میڈیا پر بیان جاری کرکے خود کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے شیخ دانش اور اسکی فیملی سے معافی مانگی تھی تاہم شیخ دانش کی اہلیہ اور بیٹی کی انتقام کی پیاس نہیں بجھی اور انہوں نے طالبہ کو گھر سے اغوا کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ مقدمے میں گرفتار مرکزی ملزم شیخ دانش سمیت 5ملزمان جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل ہیں جبکہ  مقدمے میں نامزد ملزم کی بیٹی اناشیخ  کو  تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے تاہم ملزمہ نے ضمانت قبل از گرفتاری کیلیے گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

یونیورسٹی ٹاؤن فیصل آباد  کی رہائشی بی ڈی ایس   فائنل ایئر کی طالبہ خدیجہ دختر غفور نے ویمن پولیس اسٹیشن فیصل آباد 9اگست کو درج کرائی گئی ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا تھا کہ  شیخ دانش کی بیٹی شیخ انا علی   کے ساتھ اسکول سے اسکی دوستی تھی جس کی وجہ سے اس کا شیخ دانش کے گھر آنا جانا تھا اور آپس میں گھریلو تعلق داری اور اعتماد کا تعلق تھا۔

طالبہ خدیجہ نے الزام عائد کیا کہ اس تعلق کی وجہ سے شیخ دانش نے اس  میں دلچسپی لیتے ہوئے قربتیں بڑھانے کی کوشش کی اور اسکے گھر شادی کا پیغام بھجوادیاجس پر اس نے انکار کیا تو شیخ دانش نے اپنی بیٹی کے ذریعے اسے فون پر شادی کیلیے مجبور کرنا شروع کردیا اور انکار کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کردیں  جس کے باعث وہ خوفزدہ ہوگئی اور باپ بیٹی کے ساتھ تعلقات منقطع کردیے۔

متاثرہ طالبہ نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا ہے کہ 8اگست کی دوپہر ساڑھے 12 بجے شیخ دانش اور اسکی بیٹی انا علی مسلح افراد کے ہمراہ  زبردستی  اس کے گھر میں داخل ہوئے اور اسکی والدہ، بھائی اور اسکے دوستوں کی موجودگی میں اسے لاتوں گھونسوں سے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا اور زبردستی اس کے کمرے میں داخل ہوکر اس کے 2موبائل فون،5لاکھ روپے نقدی اور 2طلائی کڑے  ہتھیالیے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان طالبہ اور اس کے بھائی کو زبردستی سیاہ ویگو میں اغوا کرکے اپنے گھر لے گئے اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔شیخ دانش ،اسکی بیٹی اور ملازمہ نے خدیجہ کے سر کے بال کاٹے اور بھنویں موڈ دیں اور  اسے چپلیں اور جوتے چاٹنے پر مجبور کیا اور اس تمام مکروہ فعل کی وڈیو بھی بنائی اور سوشل میڈیا پر وائرل کردی۔

طالبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اس دوران شیخ دانش اسے کمرے میں لے گیا اور نیم برہنہ کرکے اس کے ساتھ اوورل سیکس کرتارہا  اور وڈیو بناتا رہا۔طالبہ کے مطابق  بعدازاں شیخ دانش  نے اپنی   بیٹی کے کہنے پر  اسے اور اس کے بھائی کو چھوڑتے ہوئے دھمکی دی کہ وہ گھر جاکر بتائے کہ اسکی وڈیو ملزمان کے پاس ہے اگرانہیں 10 لاکھ روپے نہ دیے گئے تو وہ وڈیو وائرل کردیں گے۔طالبہ کے مطابق اس کے موبائل فونز،نقدی زیورات اب بھی ملزمان کے قبضے میں ہیں۔

واقعے کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی جس میں ملزمان کو طالبہ پر تشدد کرتے ،سر کے بال کاٹے اور چپلیں چٹواتےہوئے دیکھاجاسکتا ہے۔سوشل میڈیا واقعے پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر