توہین عدالت جاری: سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود اے آر وائی نیوز نشریات بحال نہ ہوسکیں

سندھ ہائی کورٹ کے دوسری بار کے حکم کے باوجود اے آر وائی نیوز کی نشریات بحال نہ ہوسکیں جو صریحاً توہین عدالت ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے ایک بار پھر اے آر وائی نیوز کی نشریاتی کی بحالی کا حکم دے دیا ، عدالتی حکم کے باوجود نشریات بحال نہیں ہوسکیں جبکہ پیمرا حکام کا کہنا ہے کہ نشریات پر بین ہماری طرف سے نہیں لگایا گیا ، اگر ایسا ہے تو پھر توہین عدالت کون کررہا ہے۔؟

گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ (ایس ایچ سی) نے متعلقہ حکام کو اے آر وائی نیوز کو فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے پر کالے بادل چھا گئے

سندھ، بلوچستان میں بارشوں نے تباہی مچا دی، حکمران اشرافیہ منظر سے غائب

نجی نیوز چینل کی نشریات ملک کے کچھ حصوں میں بحال ہونے کے کچھ ہی دیر بعد پھر سے پاکستان میں نشریات معطل کردی گئیں ہیں۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے عدالت کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے اے آر وائی نیوز چینل کی نشریات معطل کرنے کے احکامات نہیں دیئے ہیں۔

چیئرمین پیمرا نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے اوپر سے توہین عدالت کا الزام ختم کا جائے۔

اے آر وائی نیوز کے وکلاء کے مطابق سندھ ہائی کورٹ (ایس ایچ سی) نے منگل کے روز پیمرا اور کیبل آپریٹرز کو اے آر وائی نیوز کی نشریات فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عقیل عباسی نے کیس کی سماعت کی اور پیمرا اور کیبل آپریٹرز کو اے آر وائی نیوز کی ٹرانسمیشن فوری طور پر بحال کرنے کی ہدایت جاری کیں۔

عدالت نے میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے کیبل آپریٹرز کے خلاف کارروائی کی جائے۔

دوران سماعت جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ رولز اور عدالتی احکامات کے مطابق کارروائی کریں۔

جسٹس عقیل عباسی کا کہنا تھا "پیمرا کو عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے اپنے وسیع اختیارات کو استعمال کرنا چاہیے۔”

جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ "ایک کیبل آپریٹر پیمرا کی ہدایات کی خلاف ورزی کیسے کر سکتا ہے۔”

دریں اثنا، پیمرا کے وکیل نے سندھ ہائی کورٹ سے اتھارٹی کے چیئرمین کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس معطل کرنے کی استدعا کی۔ وکیل پیمرا کا کہنا تھا "کم از کم انہیں کل تک حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔”

اس پر چینل کے وکیل ایان میمن نے سوال اٹھایا کہ "چیئرمین پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست اسی صورت میں واپس لی جائے جب وہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کریں۔”

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزارت داخلہ نے بغیر کسی نوٹس کے اے آر وائی نیوز کی نشریات کو این او سی منسوخ کردیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ دوسری بار سندھ ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد نہ ہونا افسوسناک ہے جو توہین عدالت کے مترادف ہے۔

انہوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک متعلقہ حکام اور کیبل آپریٹرز کی طرف سے کسی نے بھی اس اقدام کی ذمہ داری قبول نہیں کی انہوں نے نشریات بند کی ہیں ، اگر ایسی بات ہے تو آنے والے دنوں میں توہین عدالت کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے گا؟

متعلقہ تحاریر