طیبہ گل کے الزامات کا معاملہ ، لاہور ہائیکورٹ نے حکم امتناع جاری کردیا

عدالت نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے  وفاقی حکومت سے 25 اگست کو جواب طلب کرلیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے طیبہ گل کے الزامات پر انکوائری کمیشن کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹس پر حکم امتناع جاری کردیا۔

ڈائریکٹر نیب کاشف مسرور نے صفدر شاہین پیرزادہ کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن کے ذریعے نوٹسز کو چیلنج کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب ڈوب گیا مگر مونس الہیٰ کو پیپسی کے اشتہار پر رومن اردو لکھنے کا دکھ ستاتا رہا

فواد چوہدری پنجاب اور خیبرپختونخوا حکومتوں اور وزرا پر برس پڑے

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ طیبہ گل نے جنسی ہراسانی کے معاملے پر احتساب عدالت لاہور اور وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کیا۔

طیبہ گل نے انہی الزامات پر پبلک اکاونٹس کمیٹی سے بھی رجوع کیا۔

سلام آباد ہائیکورٹ نے پی اے سی کی جانب سے طلبی کے نوٹس پر حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے۔

وکیل کا مزید کہنا تھا معاملہ عدالت میں ہونے کے باوجود وفاقی حکومت نے انکوائری کمیشن تشکیل دے دیا اور اب کمیشن نے غیرقانونی طور پر نوٹس بھی بھجوا دیا ہے۔

ایڈووکیٹ صفدر شاہین کا کہنا تھا وفاقی حکومت کا انکوائری کمیشن تشکیل دینے کا اقدام غیر قانونی ہے لہذا عدالت طیبہ گل معاملے کےلئے قائم انکوائری کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دے اور درخواست کے حتمی فیصلے پر جاری کیے گئے نوٹسز پر عملدرآمد روکے۔

عدالت نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے  وفاقی حکومت سے 25 اگست کو جواب طلب کرلیا۔

متعلقہ تحاریر