نواز شریف نے شہباز شریف کی حکومت کو نااہلوں کا ٹولہ قرار دے دیا
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے موجودہ سیاسی اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال میں نواز شریف کا بیان یوٹرن کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
نواز شریف نے عمران خان کی حمایت کردی ، شہباز شریف کی حکومت کو نالائقوں کا ٹولہ قرار دے دیا اور اپنی حکومت پر برس پڑے ، مہنگائی اور نالائقی کے خلاف بول پڑے ، کیا نواز شریف کا رونا دھونا نورا کشتی ہے ، تمام معاشی فیصلے نواز شریف کی مشاورت سے کیے گئے ، مفتاح اسماعیل نے نیا انکشاف کردیا۔
نواز شریف کا حالیہ بیان ، زباں زدِ عام ہے جس میں وہ مسلم لیگ نون اور اس کے اتحادیوں کی حکومت کو نالائقوں کا ٹولہ قرار دے رہے ہیں۔
نواز شریف نے موقف اختیار کیا ہے کہ شہباز شریف اور نالائقوں کے ٹولے کی حکومت کو 22 کروڑ عوام پر مسلط کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان میں سیلاب قیامت صغریٰ کا منظر پیش کرنے لگا
پی ٹی آئی سیلاب متاثرین کے لیے فنڈ ریزنگ کی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے، اسد عمر
نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شہباز شریف کی حکومت کے دور میں ملک میں مہنگائی اور غربت عروج کو پہنچ رہی ہے۔ موجودہ وفاقی حکومت نے پاکستان کو بے توقیر کردیا ہے اور ایک ایک ارب ڈالر کے لیے دنیا بھر میں ہاتھ پھیلاتے پھر رہے ہیں۔
نواز شریف نے عمران خان کی حکومت کی حمایت بھی کر ڈالی ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان کی حکومت ختم کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ عمران خان کا کیا قصور تھا کہ اس کی حکومت ختم کی گئی ہے۔
نواز شریف نے پوچھا ہے کہ عمران خان نے کیا چوری کیا تھا جو اس کی حکومت کو ختم کیا گیا۔ عمران خان کا یہ قصور ہے کہ اس کے پاکستان میں لندن سے بھی اچھے اسپتال بنائے ہیں۔
نواز شریف نے شہباز شریف کی حکومت کو اسلام آباد کے میئر کی حکومت قرار دے دیا اور کہا کہ ملک میں 25 ہزار کمانے والا اب غریب ہے اور لوگوں کا گزار نہیں ہو رہا ، شہباز شریف کی حکومت کے دور میں بجلی کا بل عوام پر قہر بن کر گرتا ہے ، مہنگائی نے لوگوں کی زندگیوں سے مسکراہٹیں تک چھین لی ہیں۔
شہباز شریف کی حکومت میں آئین کی پاسداری نہیں رہی ، شہباز شریف کی حکومت لانے اور عمران خان کی حکومت گرانے میں کسی اور ہاتھ تھا۔
وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل سے جب اس صورت حال پر سوال کیا گیا کہ مسلم لیگ نون کے قائدین حکومت کی پالیسیز کو عوام دشمن قرار دے رہے ہیں ، نواز شریف ، عابد شیر علی اور حنیف عباسی نے بھی ان پالیسز کے خلاف بیانات دیئے ہیں تو وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے نیا انکشاف کر ڈالا۔
وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے سخت ترین معاشی فیصلوں میں پہلی بار نواز شریف سے مشاورت کا بیان دے ڈالا۔ اس سے پہلے وہ یہ کہتے تھے تمام مشکل معاشی فیصلوں کے پیچھے وہ کھڑے ہیں اور بڑی مشکل سے وزیر اعظم شہباز شریف کو مناتے ہیں۔
اب انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ تمام مشکل فیصلوں میں نہ صرف شہباز شریف سے مشاورت ہوتی رہی ہے اور ان کے دستخط سے فیصلے جاری کیے گئے ہیں بلکہ مسلم لیگ نون لندن بھی مشکل فیصلوں میں آن بورڈ رہی ہے اور نواز شریف کو تمام مشکل فیصلوں سے آگاہ کیا جاتا رہا، ان سے مشاورت کی جاتی رہی اور ان کی رضامندی سے فیصلے کیے گئے۔
تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ کراچی میں قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب کے نتیجے نے حکمران اتحادی الائنس کی عوام میں مقبولیت کی قلعی کھول دی ہے۔ اس ضمنی انتخاب میں 11 جماعتوں کے اتحاد نے 5 لاکھ ووٹرز میں سے 13 ہزار ووٹ بھی حاصل نہیں کیے اور اکیلے عمران خان کے امیدوار محمود مولوی 29 ہزار سے زائد ووٹ لے کر تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی بن گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کے بعد نوازشریف کا بیان ایک یوٹرن ہے اور انہیں پتہ ہے کہ اگر انہی معاشی فیصلوں ، بجلی کے بلوں اور پٹرول کے دام کے ساتھ عوامی مہم پر نکلیں گے تو خفت ہی اٹھانا پڑے گی۔
نواز شریف اسی لیے یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شہباز شریف کو نادیدہ قوتوں نے اقتدار پر بٹھایا اور مشکل فیصلے کرائے۔ جبکہ پوری قوم جانتی ہے کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے مریم نواز شہر شہر جلسے کرتی رہیں اور عمران خان کی وکٹیں گرنے کے اعلانات کرتی رہیں، پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹونے پورے ملک میں احتجاجی ریلی نکالی ، کراچی سے اسلام آباد تک احتجاج مارچ کیے اور عمران خان کی حکومت کو ہٹانے کے لیے بھرپور زور لگایا۔ تمام اتحادی جماعتوں نے عمران خان کی حکومت گرانے پر شادیانے بجائے اور ایک ایک ووٹ کو اپنی فتح قرار دیا تھا۔









