سیلاب سے نمٹنے کے ناکامی اقدامات : انوشے اشرف کا بختاور بھٹو کو مدلل جواب

سیلاب خراب حکمرانی کی وجہ سے نہیں  آتے، بختاور بھٹو:سیلاب بری حکمرانی کے باعث نہیں آتے لیکن اچھی حکمرانی کے ذریعے بہت سے نقصانات کو روکا جاسکتا ہے،انوشے اشرف

ملک میں تباہ کن بارشوں اور سیلاب کے لیے پیشگی اقدامات نہ کرنے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ۔سندھ میں برسراقتدار پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ بختاور بھٹو نے بارشوں اور سیلاب سے تباہی کی ذمے داری قدرت کے سر ڈالتے ہوئے ناقدین کو تنقید کا نشانہ بنایا تو ٹی وی اور ریڈیو کی معروف میزبان  انوشے اشرف نے مدلل جواب دیکر انہیں لاجواب کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

امریکا میں ڈانس شوز کے ذریعے امداد جمع کرنے پر اداکارہ میرا کی تعریف

عمران خان کی ٹیلی تھون کیلیے پاکستانی فنکاروں کا بھرپور تعاون

بختاور بھٹو نے ایک ٹوئٹ میں  لکھا کہ سیلاب خراب حکمرانی کی وجہ سے نہیں  آتے۔جون سے جولائی سے تک بارشوں کے  کچھ نہ رکنے والے سلسلے جاری رہے اور اب بھی جاری ہیں۔ بند نالوں کی وجہ سے نہیں بلکہ بڑے پیمانے پر ہونے والی بارشوں کے باعث  شہر زیر آب ہیں۔سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، لاکھوں ا فراد کی زندگیاں  متاثر ہوئی ہیں۔انہوں نے ناقدین کو مشورہ دیا کہ یا تو مدد کریں یا خاموش رہیں۔

  انوشے اشرف نےبختاور بھٹو کا نام لیے بغیر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے  اپنی انسٹاگرام  اسٹوری میں لکھا کہ سیلاب بری حکمرانی کے باعث نہیں آتے لیکن اچھی حکمرانی کے ذریعے بہت سے نقصانات کو روکا جاسکتا ہے۔یہ بیان حد سے زیادہ استحقا ق رکھتا ہے۔کسی کا ذمے داری نہ لینا حیران کن ہے، دوسرے ملکوں میں اپنے شہریوں کو اس حالت میں دیکھ کر مستعفی ہوجاتے ۔انہوں نے حکومتی رویے کو شرمناک قرار دیا۔

 انہوں نے مزید لکھاکہ سب یہ باور کرارہے ہیں   کہ موجودہ حالات پر ہمیں کتنا افسوس ہے اور ہم اپنی پوری کوشش کیسے کر رہے ہیں۔ لیکن لہجہ اتنا  جارحانہ ہے۔ زبردست۔

متعلقہ تحاریر