خلیجی ممالک کا نیٹ فلکس کو اسلامی اقدار کی خلاف ورزی پر انتباہ

سعودی عرب اور پڑوسی خلیجی ممالک پر مشتمل خلیج تعاون کونسل نے وڈیو اسٹریمنگ  پلیٹ فارم  نیٹ فلکس پرغیر اسلامی اور معاشرتی اقدار سے متصادم  مواد نشر کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے نہ  ہٹانے کی صورت میں قانونی کارروائی کی دھمکی دے دی۔

سعودی میڈیا ریگولیٹر اور چھ رکنی خلیج تعاون کونسل کے ریاض میں واقع صدر دفتر سے جاری مشترکہ بیان میں خاص طور پر توہین آمیز مواد کی نشاندہی تو نہیں کی گئی  لیکن بیان میں کہا گیا ہے کہ  بچوں کیلیے مختص مواد سمیت قابل اعتراض مواد کو ہٹانے کے لیے پلیٹ فارم سے رابطہ کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اداکارہ کترینہ کیف نے سہاگ رات کا متبادل پیش کردیا

ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر شادی شدہ خاتون کو ورغلاتے ہوئے پکڑے گئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ علاقائی حکام  پلیٹ فارم کو دی گئی  ہدایات کی تعمیل پرعملدرآمد کاجائزہ لیں  گے  اور قابل اعتراض مواد نشر ہونے کی صورت میں ضروری قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک بارہا امریکی فلم ڈسٹری بیوٹرز کے ساتھ  خاص طور پر فلموں میں جنسی اقلیتوں سے متعلق مواد پر سینگ پھنسا چکے ہیں۔

2017میں سنیما گھر کھولنے والے سعودی عرب  نے  اپریل میں ڈزنی سے مارول سپر ہیرو فلم ڈاکٹر اسٹرینج ان دی ملٹیورس آف میڈنس سے ہم جنس پرستی سے متعلق مواد کاٹنے کو کہا تھا۔ ڈزنی نے سعودی عرب کے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا تھاجس کے باعث فلم کو نمائش کی اجازت نہیں ملی تھی ۔

متعلقہ تحاریر