نواز شریف واپس آؤ میں تمہارا انتظار کررہا ہوں ، عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا ہے جو قوم مجرموں کو ووٹ دیتی ہیں ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے نااہل کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جارہے ہیں ، مجھ پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا ، ن لیگ والے شرم کریں انہوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا ، دونوں خاندان 30 سال سے ملک کو لوٹ رہے ہیں ، بڑے بڑے ڈاکو جیل میں نہیں اسمبلی کے اندر ہیں۔

چشتیاں میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا بدحالی کی وجہ سے یہاں ڈاکو اقتدار میں ہیں۔

مسلم لیگ ن کے سربراہ کو چیلنج دیتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا نواز شریف واپس آؤ میں تمہارا انتظار کررہا ہوں ، جب یہ لوگ اقتدار میں ہوتے ہیں تو ملک میں ہوتے ورنہ باہر چلے جاتے ہیں، شریفوں کا سارا ٹبر ہی لندن میں بیٹھا ہے، چشتیاں کبھی ن لیگ کا گڑھ ہوتا اب لندن ان کا گڑھ ہے۔ لندن میں بیٹھا بھگوڑا پاکستان کے فیصلے کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف کی وطن واپسی ، اگلے 24 گھنٹے انتہائی اہم

میں نے کہا تھا میرٹ پر آرمی چیف کی تعیناتی ہونی چاہیے تو میں نے کیا غلط کہا، عمران خان

انہوں نے کہا ہے کہ بہاولپور میں ایک بڑی مونچھوں والا لوٹا ہے اسے میں خود الیکشن میں شکست دوں گا۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا اب پاکستان بدل چکا ہے اب لوگوں میں شعور آچکا ہے ، اب انقلاب ووٹ کے ذریعے آئے گا ، خونی انقلاب کے ذریعے نہیں۔ خوف کے مارے پی ٹی آئی پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں ، پنجاب حکومت کو پھر سے گرانے کی کوشش کی جارہی ہے ، ہمارے ایم پی ایز کو پھر سے خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے ، ملک کی سب سے بڑی جماعت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا وسائل کے باوجود ملک مقروض ہے ، ان کے کیسز کے چار گواہ دو ماہ میں انتقال کر گئے ، ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے 16 ارب روپے کی کرپشن کی ، تیسرا چور ڈیزل بھی ان کے ساتھ مل گیا، حمزہ شہباز اور شہباز شریف کہتے ہیں منی لانڈرنگ کا کیس ختم کیا جائے ، چور دروازے سے آنے والے کو وزیراعظم بنا دیا گیا ، ایک دوسرے کو چور کہنے والے آج ایک ہو گئے ہیں، جو قوم مجرموں کو ووٹ دے گی ان کا مستقبل کیا ہوگا، آج قوم ان ڈاکوؤں کے ساتھ نہیں میرے ساتھ کھڑی ہے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ کا کہنا تھا سیلاب میں ہمیں دنیا کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑ رہا ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوں میں سیلاب متاثرین کے لیے سب سے زیادہ کام کروں گا۔

متعلقہ تحاریر