جنرل باجوہ کی توسیع: عمران خان کے بیان کے بعد نوازشریف کی واپسی مشکل ہوگئی

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف کے مستقبل کے منصوبوں کو تقریباً ناکام بنا دیا، سربراہ پی ٹی آئی کے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بیان سے نوازشریف کی وطن واپسی کا معاملہ کھٹائی میں  پڑگیا ہے

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بیان نے نوازشریف کی پاکستان واپسی کا منصوبہ  تعطل کا شکار ہوکر رہ گیا ہے ۔

تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ اورسابق وزیراعظم عمران خان نے نئے انتخابات تک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع پر آمادگی ظاہر کرکے ٹرمپ کارڈ کھیلا۔

یہ بھی پڑھیے

جنرل باجوہ کو ایکسٹنشن اور فوری الیکشن: عمران خان کی ترپ کی چال

عمران خان نے ایک بارپھرمخلوط حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ نئی فوج کا فیصلہ نئی حکومت پر چھوڑ دیا جائے اور اس وقت تک جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ الیکشن جیت جاتے ہیں تواپنی مرضی کا آرمی چیف مقرر کریں۔ 85 سیٹوں والا بھگوڑا آرمی چیف کیسے لگا سکتا ہے؟۔ نواز شریف اور آصف زرداری کی ترجیح پیسہ بچانا ہے میرٹ نہیں۔ بار بار کہوں گا کہ آرمی چیف کا تقرر میرٹ پر ہونا چاہیے۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کہا کہ آرمی چیف کا عہدہ اہم ہے اور میرٹ پر انتخاب ہونا چاہیے۔ اگر میرٹ نہیں ہے تو ہم دوسرے ممالک کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں ۔

پی ٹی آئی کے سربراہ کے بیان پر ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور وزیردفاع خواجہ آصف نے ٹوئٹر پرالزام لگایا کہ عمران  خان اقتدار حاصل کرنے کے لیے بے چین تھے اور اب وہ آرمی چیف کی تقرری کو انتخابات اور سیاست سے ملانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ حکومت آئینی اور ادارہ جاتی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اہم ذمہ داری کو مناسب وقت پر پوری کرے گی۔ اہم قومی فیصلے سیاسی مفادات کی بنیاد پر نہیں کیے جاسکتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی رہنما اور وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی خان کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی سربراہ ایک بد مزاج شخص ہیں جو سیلاب زدگان کی امداد روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف واپس آؤ میں تمہارا انتظار کررہا ہوں ، عمران خان

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف کے قرضہ پروگرام کی بحالی میں رکاوٹیں پیدا کی اور اپنی سیاست کے لیے شہیدوں کے خلاف سوشل میڈیا پر زہریلی مہم چلائیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کے مستقبل کے منصوبوں کو تقریباً ناکام بنا دیا ہے جس میں پاکستان واپسی کے بعد سیاست میں ان کی متوقع انٹری بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ ذرائع نے نوازشریف کے جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع یا اسی بلاک سے نئے آرمی چیف کی تقرری کے منصوبے کا اشارہ دیا ہے جس سے ان کی سیاسی جماعت کی حکمرانی مضبوط ہوگی۔

تجزیہ کاروں نے مزید کہا کہ عمران خان کے بیان نے اسٹیبلشمنٹ میں ان کے کچھ ناقدین کے ذہنوں کو بدل دیا اور وہ پی ٹی آئی کے سربراہ کے بیان کی حمایت کرنے کے لیے سوچنے لگے۔

متعلقہ تحاریر