عمران خان پر دہشتگردی کی دفعہ بہت سنجیدہ الزام ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے چیئرمین تحریک انصاف کی تقریر نامناسب ضرور تھی پھر بھی دہشتگردی کی دفعہ نہیں بنتی۔

خاتون جج اور آئی جی پولیس کو دھمکانے کا معاملہ ، عمران خان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے عمران خان کی تقریر نامناسب ضرور تھی مگر دہشت گردی کی دفعہ کیسے لگ گئی؟ یہ بہت سنجیدہ نوعیت کا الزام ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے خاتون جج اور آئی جی پولیس اسلام آباد کو دھمکانے پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف درج دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔

یہ بھی پڑھیے

شہباز گل کی ضمانت بعداز گرفتاری اسلام آباد ہائی کورٹ سے منظور

اسلام آباد ہائیکورٹ کا انتباہ، 23 روز سے لاپتا شخص گھر پہنچ گیا

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے عمران خان کو گزشتہ سماعت پرحکم دیا تھا کہ وہ تفتیش کے لئے پیش ہوں۔

پراسیکوٹر راجہ رضوان عباسی نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان تفتیش کے لئے پیش ہوئے تھے۔

عدالت نے دریافت کیا کہ تفتیشی افسر بتائیں گے کیا اس کیس میں دہشت گردی کی دفعہ لگتی ہے یا نہیں؟ جس پر پراسیکیوٹر کا موقف تھا کہ اس کیس میں دہشت گردی کی دفعہ لگتی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے مقدمات کی تعریف سپریم کورٹ کرچکی ہے، دہشتگردی کی دفعات ایسے نہ لگائیں کہ اس کا اثر ہی ختم ہو جائے۔‘

اس پر پولیس پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے  جج زیبا چودھری سے کہا تھا کہ ہم آپ کو بھی دیکھ لیں گے، عمران خان کی تقریر اشتعال انگیز تھی جو دہشت گردی کی دفعہ 6 پر پورا اترتی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عمران خان کی تقریر کے متن کے مطابق اس پر دہشت گردی کی دفعات تو نہیں لگتی ہیں، کیا آئی جی اتنے کمزور ہیں کہ ایک شخص کی تقریر سے دہشت پھیل گئی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عمران خان کی تقریر بہت غلط اور اس میں نامناسب الفاظ بھی تھے مگر دہشت گردی کی دفعہ تو نہیں بنتی۔

عدالت عالیہ نے یہ بھی دریافت کیا کہ کیا عمران خان نے تقریر کے بعد حملہ کیا؟۔

پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے اس پر کہا کہ اگر دھمکی دینے والا سابق وزیر اعظم ہو تو اس کی تقریر سے فرق تو پڑتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دہشت گردی کی دفعہ کی اہمیت کو اس طرح کم نہ کریں کہ لوگوں کے دلوں سے اس کا ڈر ہی نکل جائے، یہ بہت سنجیدہ نوعیت کا الزام ہے۔

عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے، توہین عدالت کیس اس سے الگ ہے، چیزوں کو آپس میں خلط ملط نہ کریں۔

انسدادِ دہشت گردی کا قانون ایک خاص قانون ہے جو اصل دہشت گرد پر لگتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اپنی جج کے تحفظ کے لیے موجود ہیں۔ اس معاملے پر باقاعدہ توہین عدالت کی کارروائی چل رہی ہے۔

پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے موقف اپنایا کہ جے آئی ٹی کا اجلاس ابھی ہونا ہے۔ اس میں دفعہ کے رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے حکم دیا تھا کہ آج عدالت کو اس بارے میں بتایا جائے۔

ہائی کورٹ نے عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعہ لگنے یا نہ لگنے سے متعلق جے آئی ٹی سے پیر تک رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

متعلقہ تحاریر