کیا شہباز شریف ایس سی او سربراہی اجلاس میں واقعی مرکز نگاہ تھے؟ حقیقت بے نقاب

ن لیگی سوشل میڈیا ٹیم نے وزیراعظم شہبازشریف کی تصویر شیئر کرکے بے بنیاد دعویٰ کیا تھا، واقعے کی وڈیو نے وزیراعظم کی مقبولیت کا بھانڈا پھوڑ دیا، سوشل میڈیا صارفین نے مسلم لیگ ن پر شدید تنقید

وزیر اعظم شہباز شریف کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جو اس وقت شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے سمرقند ازبکستان کے دورے پر ہیں اور رکن ممالک کےسربراہان کے  ساتھ کئی   ملاقاتیں   کرچکے ہیں۔

وائرل ہونے والی تصویر میں  دیکھا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف  ترکی اور روس کے صدور سمیت عالمی رہنماؤں کے درمیان میں کھڑے کسی گہری دوش میں مصروف ہیں جبکہ عالمی رہنما ان سے مخاطب ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان کا فوری انتخابات کا مطالبہ ، احتجاجی مارچ سے پیچھے ہٹ گئے

اداروں میں موجود لوگ لاڈلے کو تحفظ دینا چھوڑ دیں، مریم نواز کا سنگین الزام

حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کی سوشل میڈیا ٹیم نے اس تصویر کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وزیراعظم شہبازشریف شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بن گئے۔

مسلم لیگ ن کے ٹوئٹر ہینڈل نے بھی اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ بالآخر 4 سال کے طویل عرصے بعد پاکستان کو وہ لیڈر مل گیا جسے عالمی سطح  عزت سے نوازا جارہا ہے۔ تاہم حقیقت اس دعوے کے برعکس ہے۔

صحافی طارق متین نے اس واقعے کی مکمل وڈیو اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر کی ہے جس  میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے عالمی رہنما اور وزیراعظم شہبازشریف سمرقند کے ثقافتی مرکز میں ایک غیررسمی عشایئے میں شریک تھے۔

اس موقع پر تمام سربراہان مملکت کھانوں کی نمائش اسٹالز پر رکھی گئی لوازمات چکھ رہے  تھے۔ تاہم شہبازشریف پیچھے کھڑے تھے جس پر میزبان نے انہیں مدعو کیا تو دیگرمہمانوں  نے ان کیلیے راستہ بنایا جس پر کیمرا مین نے  یہ تصویر لے لی۔

تحریک انصاف کے حامی سوشل میڈیا صارفین نے اس تصویر پر مسلم لیگ ن   کی سوشل میڈیا ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔موسیٰ ورک نے لکھا کہ جس کسی نے بھی یہ تصویر شیئر کی ہے یقیناً اس کی تربیت مریم نواز نے کی ہوگی۔

متعلقہ تحاریر