ہفتہ وار مہنگائی میں معمولی کمی ، شرح 41.81 پر آ گئی

پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق 30 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ، 10 میں کمی اور 11 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

ملک میں جاری مہنگائی کی لہر نے عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن کردی ہے، ملک میں مہنگائی کی شرح معمولی کمی کے بعد 41.81 فیصد پر پہنچ گئی ، روزمرہ استعمال کی 30 اشیائے ضروریہ ایک ہفتے میں مزید مہنگی ہوگئیں۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ تمام پاکستانیوں کے دکھ دُگنے ہوتے جارہے ہیں ، موجودہ مہنگائی میں زندگی جینا مشکل ہو گیا ہے۔

پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں 30 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ، جن میں  کھانے پینے کی بنیادی اشیاء جیسے، گوشت، دالیں ، چائے،  انڈے اور آٹا شامل ہے۔ تازہ دودھ ، دہی ، چاول اور دال مسور کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آسماں کو چھوتی معیشت کو امپورٹڈ حکومت نے زمیں بوس کردیا، عمران خان

روسی صدر کی گیس فراہمی کی پیشکش پر اتحادی حکومت تذبذب کا شکار

پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق چائے کا پیکٹ 18 روپے 60 پیسے مہنگا ہوا۔ ایک ہفتے کے دوران دال مونگ 8 روپے 31 پیسے فی کلو جبکہ دال چنا 6 روپے 20 پیسے فی کلو مزید مہنگی ہوئی۔

ایک ہفتے میں دال ماش 6 روپے 34 پیسے فی کلو مزید مہنگی ہوئی۔

ادارہ شماریات کے مطابق حالیہ ہفتے انڈے 5 روپے 98 فی درجن مہنگے ہوئے۔ ایک ہفتے میں آٹے کا بیس کلو کا تھیلا 25 روپے 41 پیسے فی کلو مہنگا ہوا یوں آٹے کا بیس کلو کا تھیلا (یوٹیلیٹی اسٹورز پر) 1323 روپے 90 پیسے کا ہوگیا ہے۔

پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں مٹن 3 روپے 98 پیسے بیف 2 روپے 41 پیسے فی کلومہنگا ہوا۔

ادارہ شماریات کے تارہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں 10 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم ہوئیں اور حالیہ ہفتے میں پیاز 16 روپے 36 پیسے ٹماٹر 16 روپے 12 پیسے فی کلو سستے ہوئے۔

برائلر مرغی کی قیمت میں 5 روپے 40 پیسے فی کلو کی کمی ہوئی۔

ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 80 روپے 89 پیسے سستا ہوا ، ایک ہفتے میں کیلے، چینی، گھی کی قیمت میں بھی کمی ہوئِی۔

پاکستان شماریات بیورو کے مطابق حالیہ ہفتے گیارہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں محض اعشاریہ ایک نو فیصد کی معمولی کمی ہوئی۔

عوام کاشکوہ ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی ٹھوس حکمت عملی نظر نہیں آرہی اور عوام منافع خوروں کے رحم و کرم پر ہے۔ ملک بھر میں منافع خور مافیا کا راج ہے اور  وہ منہ مانگے دام وصول کر رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر