ڈار کے ڈالر پر وار جاری، امریکی کرنسی کی قدر میں مزید اعشاریہ 71 فیصد کمی

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق کاروباری  ہفتے کے دوسرے روز انٹر بینک میں ایک ڈالر کی قدر میں اعشاریہ 71 فیصد کمی ہوئی، ایک روپے 65 پیسے کی کمی سے ڈالر225 روپے 64 پیسے ہوگیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر ڈیڑھ روپے سستا ہوکر 228 روپے 50 پیسے پر آگیا  ہے

وزیر خزانہ ڈار کے ڈالر پر وار کا سلسلہ مسلسل  آٹھوں روز بھی جاری رہا۔ انٹربینک میں ڈالر آج بھی دباؤ کا شکار رہا جبکہ اوپن مارکیٹ میں بھی ایک ڈالر کی قیمت میں1 روپے 50 پیسے کی کمی د یکھی گئی ۔

نئے وزیر خزانہ اسحا ق ڈار نے اپنے اعداد و شمار کا جادو جگاتے ہوئے امریکی ڈالر کو روپے کے مقابلے میں دباؤ  کا شکار بنا دیا ہے ۔ آج مسلسل آٹھویں روز بھی ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان قائم رہا۔

یہ بھی پڑھیے

کیا اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف سے کی ڈیل توڑ دی؟ مفتاح اسماعیل کا سوال

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق کاروباری  ہفتے کے دوسرے روز انٹر بینک میں ایک ڈالر  کی قدر میں اعشاریہ 71 فیصد کمی ہوئی ۔ ایک روپے 65 پیسے کی کمی سے ڈالر  225 روپے 64 پیسے کی سطح پر آگیا ۔

نئے وزیرخزانہ کی آمد کے بعد 8 روز کے اندرایک ڈالر 14 روپے تک سستا ہوچکا ہے جبکہ رواں کاروباری ہفتے کے پہلے 2 دنوں میں ڈالر کی قدر میں تقریباً 3 روپے کمی دیکھی گئی ہے ۔

آج اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔ فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر1.50 روپے سستا ہوکر 228.50 روپےکا ہوگیا ہے۔

معاشی ماہرین نے کہا کہ بینکوں کی جانب سے لیٹر آف کریڈٹس کھولتے وقت فی ڈالر پر چارجز کی وصولیوں اور درآمد کنندگان کو بلند شرح پر ڈالر کی فروخت نے روپیہ کو تیزی سے کمزور کیا۔

متعلقہ تحاریر