25مئی کے مارچ میں دو غلطیاں ہوئیں ، ہم نے اپنے مخالفین کو جمہوری سمجھا، عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے حقیقی آزادی مارچ کے لیے ہم نے ہر صورت ہر ضلع سے 6 ، 6 ہزار کارکنان لے کر آنے ہیں۔

سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سائفر کہیں چوری نہیں ہوا ، اس کی ماسٹر کاپی دفتر خارجہ میں پڑی ہوئی ہے۔ کہتے ان چوروں کو اپنی چوری کا ڈر ہے مجھے کسی چیز کا ڈر نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے خیبر پختون خوا ، پنجاب اور آزاد کشمیر میں ہماری حکومتیں ہیں۔

ان خیالات کا اظہار چئیرمین تحریک انصاف ، سابق وزیراعظم عمران خان کی ایوان وزیراعلیٰ 90 شاہراہ قائد اعظم پر سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران کیا ۔

یہ بھی پڑھیے

اٹک جیل جنسی ہراسگی اور زنا بلجبر کا مرکز بن گئی

بانی ایم کیو ایم نے پھر معافی مانگ لی، سیاست میں واپسی کے خواہشمند

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا پی ٹی آئی بیٹ رپورٹرز سے ملاقات میں کہنا تھا کہ آرمی چیف کوئی بھی آجائے مجھے فرق نہیں پڑتا ، آرمی چیف کا تقرر میرٹ  پر ہونا چاہیے ، یہ مرضی کا آرمی چیف لانا چاہتے ہیں ، یہ تو سیکورٹی تھریٹ ہیں ایک مجرم کیسے آرمی چیف کا فیصلہ کرسکتا ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ ہر کام مذاکرات سے ہوسکتا ہے۔ آخر میں تو مزاکرات سے ہی باتیں طے ہوتی ہیں۔ انہوں نے نیب چیئرمین مرضی کا لگا لیا۔ یہ ادارون کے سربراہ اپنی مرضی کے لگانا چاہتے ہیں۔ الیکشن کمیشن جتنا جانبدار اتنا کبھی نہیں دیکھا۔

الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا الیکشن کمیشن جانبدار ہے یہ مجھے نااہل کروانا چاہتے ہیں ، چیلنج ہے میرا اور زرداری، نواز شریف کا توشہ خانہ کیس ایک ساتھ سن لیا جائے ، میں نے کچھ غیر قانونی نہیں کیا انہوں نے تو غیر قانونی طور پر قیمتی گاڑیاں گاڑیاں لے لیں۔

عمران خان کا کہنا تھا یہ اداروں کے سربراہ اپنی مرضی کے لگانا چاہتے ہیں ، انہوں نے نیب کا چیئرمین اپنی مرضی کا لگا دیا ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا 16 اکتوبر دور لگتا ہے ہوسکتا ہے کہ ضمنی انتخابات کی نوبت ہی نہ آئے۔

سربراہ پی ٹی آئی کا کہنا تھا حقیقی آزادی مارچ کی کال کب دینی ہے اس کا پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو بھی نہیں بتایا ہے۔ ہر چیز ریکارڈ ہو رہی ہے کال کی تاریخ اپنے تک رکھی ہوئی ہے۔

 لانگ مارچ کے حوالے سے خان نے کہا کہ لانگ مارچ کب ہوگا کسی کو تاریخ نہیں بتاوں گا ، ہر چیز ریکارڈ ہوتی ہے تاریخ میں نے اپنے تک رکھی ہے ، شاہ محمود قریشی میرے وائس چیئرمین ہیں ان کو بھی نہیں بتایا ، 16 اکتوبر دور لگتا ہے  ہوسکتا ہے ضمنی انتخاب کی نوبت ہی نہ آئے ۔

ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کو کیسے ہمیں روکے گا۔ اسلام آباد کے چاروں طرف تو ہماری حکومتیں ہیں ، پنجاب خیبر پخوتخونخواہ۔ آزاد کشمیر میں ہم ہیں ، یہ خالی دھمکیاں دے رہا ہے۔

موجودہ حکومت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ان کو اپنی کرپشن کا ڈر ہے مجھے کوئی ڈر نہیں ، سائیفر کہیں چوری نہیں ہوا ، سائفر کی ماسٹر دستاویز دفتر خارجہ میں ہوتی ہے ، شکر ہے انہوں نے سائفر کو تسلیم تو کیا ، کمیٹی مجھے بلاتی ہے تو پہلے یہ پوچھوں گا کہ ڈونلڈ لو نے کس کو ہٹانے کا حکم دیا ، ان کو ایک بار پھر این آر او دے دیا گیا۔

ملاقات میں عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو لانگ مارچ کی تیاریوں سے متعلق ٹاسک دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع سے6، 6 ہزار لوگوں کو حقیقتی آزادی مارچ میں لے کر آنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا آغاز کہاں سے ہوگا وقت اور جگہ کا تعین خود کروں گا، اہم کارڈ ابھی میرے سینے سے لگے رہیں گے۔ عمران خان نے صوبائی وزیرراجہ بشارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب کو مل کر ملک کو کرپٹ مافیا سے بچانا ہے۔

متعلقہ تحاریر