کراچی میں نجی اسکول کے استاد کی 14 سالہ طالبہ سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار

مبینہ واقعہ سرجانی ٹاؤن خدا کی بستی میں اسمارٹ چلڈرن اکیڈمی میں پیش آیا، ٹیچر باسط نے ہوم ورک نہ کرنے کے بہانے بچی کو اسکول میں روکا اور نشہ آور محلول پلایا، چھٹی کے بعد خالی پلاٹ پر لے گیا جہاں موجود 4 میں سے ایک فرد نے بچی کو انجکشن لگایا پھر زیادتی کا نشانہ بنایا، والدین کا ایف آئی آر میں الزام، ملزم کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور،بچی کے معائنے میں جنسی یا جسمانی چوٹیں نہیں ملیں، پولیس سرجن

کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن خدا کی بستی میں واقع اسمارت چلڈرن اکیڈمی میں استاد نے مبینہ طور پر 14 سالہ طالبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔

پولیس نے متاثرہ طالبہ کے والدین  کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے ملزم باسط کو گرفتار کرکےعدالت سے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور کے علاقے چوہنگ میں پولیس اہلکاروں کی خاتون سے اجتماعی زیادتی

اسلام آباد میں جنگل کا راج ،پاکستانی لڑکیاں غیرملکیوں کی ہوس کانشانہ بننے لگیں

14 سالہ طالبہ کے والدین کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آر کے مطابق اسکول ٹیچر باسط نے متاثرہ طالبہ کو پہلے ہوک ورک نہ کرنے پر اسکول میں روک کر پانی میں نشہ آورچیز گھول کر پلائی، پھر اسکول کی چھٹی ہونے پر ملزم باسط بچی کو ایک پلاٹ میں لے گیا، جہاں مزید 4 افرادموجود تھے جن میں سے ایک نے متاثرہ بچی کو نشے کا انجکشن لگایا۔ایف آئی آر کے مطابق بچی کو نشے کا انجکشن لگانے کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

ڈان ڈاٹ کام کے  مطابق  پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ عباسی شہید اسپتال کے میڈیکل سیکشن میں متاثرہ بچی طبی معائنہ کیا گیا۔میڈیکو لیگل افسر کے سامنے متاثرہ بچی نے بیان میں کہا کہ گزشتہ دو ماہ سے ملزم کی طرف سے مشروب میں اور انجکشن کے ذریعے انہیں نامعلوم نشہ آور چیز دی جاتی تھی، متاثرہ بچی گزشتہ 10 دن سے اسکول سے چھٹیوں پر تھی۔

ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا کہ متاثرہ بچی کے معائنے میں جنسی اور جسمانی چوٹیں نہیں ملیں، انہوں نے مزید کہا کہ خون کے اور دیگر نمونے کیمیائی تجزیے، سیمین سیرولوجی اور ڈی این اے کے لیے جمع کیے گئے ہیں۔

درین اثنا، صوبائی وزیر شہلا رضا نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تفصیلات طلب کرلیں۔شہلا رضا نے کہا کہ بچی کی شکایت پر ملزم پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر نے پولیس کو فوری طور پر متاثرہ لڑکی کا طبی معائنہ کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر جرم ثابت ہوجائے تو ملزم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

شہلا رضا نے مثارہ بچی کے والدین سے بات کرتے ہوئے انہیں انصاف کی مکمل یقین دہانی کروائی۔انہوں نے مزید کہا کہ عصمت دری کے قوانین کو سخت بنانا چاہیے کیونکہ عادی جنسی مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

دریں اثنا پر ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن سندھ نے معاملے کی تحقیقات کیلیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی۔انکوائری کمیٹی کے سربراہ ڈپٹی ڈائریکٹر ہونگے جبکہ ممبران میں مانیٹرنگ افسر و دیگر بھی شامل ہیں۔انکوائری کمیٹی کو  24 گھنٹے میں اپنی رپورٹ ڈائریکٹوریٹ کو جمع کرانے کا پابند کیا گیا ہے ۔

متعلقہ تحاریر