فچ کے بعد عالمی بینک نے پاکستانی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب سے 10 ارب ڈالر سے 40 ارب ڈالر معاشی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ کے بعد عالمی بینک (ڈبلیو بی) نے بھی پاکستان کی معیشت خطرات اور چیلنجز میں گھری ہوئی قرار دے دیا ہے۔

عالمی بینک نے پاکستان سے متعلق میکرو اکنامک ڈویلپمینٹ اپڈیٹ لک جاری کر دی ہے جس کے مطابق حالیہ سیلاب کی تباہی سے پاکستان کے رواں مالی سال کے اہداف متاثر ہونگے۔

یہ بھی پڑھیے

عالمی مالیاتی اداروں سے مزید امداد کی خبروں سے ڈالر مزید نیچے آگیا

ایشیائی ترقیاتی بینک کا 2.5 ارب ڈالر کی فلڈ ریلیف سپورٹ فراہم کرنیکا اعلان

عالمی بینک کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال دوران پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 2 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ رواں مالی سال 2023 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیلاب سے 10 ارب ڈالر سے 40 ارب ڈالر معاشی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

سیلاب سے پیداوار میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ کا خدشہ ہے۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کو اپنی ضروریات کیلئے غذائی اجناس درآمد کرنی پڑیں گی، جبکہ دیگر اشیاء کی درآمد سے درآمدی بل میں اضافہ ہوگا۔

پاکستان کو مانیٹری اور مالیاتی پالیسی میں بہتری کیلئے اقدامات کرنا ہونگے۔

عالمی بینک پاکستان کو سیلاب سے بحالی کیلئے 2 ارب ڈالر فنڈز کا اعلان کر چکا ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2024 میں معاشی گروتھ 3.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ زرعی شعبے کی نمو رواں مالی سال میں منفی 1.1 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024 میں زرعی شعبے کی نمو 3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ گزشتہ مالی سال 2022 میں صنعتی ترقی کی نمو 7.2 فیصد تھی ۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال 2023 سروسز کی گروتھ 3.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ آئندہ مالی سال 2024 میں خدمات کے شعبے کی نمو 3.4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ تحاریر