ڈیفالٹ کے خطرات: پاکستان کو سال کے آخر تک یورو بانڈز پر 80 فیصد منافع دینا پڑے گا

پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں، پاکستان کو رواں سال کے آخر تک یورو بانڈز کے منافع کی مد میں 80 فیصد پروفٹ دینا پڑے گا جبکہ گزشتہ حکومت میں یہ شرح 6 فیصد تھی، مئی میں بلوم برگ نے 19 فیصد شرح منافع دینے پر پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے قریب قرار دیا تھا

پاکستان ڈیفالٹ کے خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اسلام آباد کو رواں سال کے آخر تک یورو بانڈزکے منافع کی مد میں 80 فیصد پروفٹ دینا پڑے گا جبکہ سال کے آغاز میں منافع کے شرح 6 فیصد تھی ۔

معاشی تجزیہ نگار سمیع اللہ طارق نے ایک چارٹ کے ذریعے یورو بانڈز کے منافع کی شرح میں اضافے سے متعلق بتایا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے آخر تک یہ منافع کی شرح 80 فیصد تک پہنچ جائے گی ۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی یورو بانڈ پر شرح منافع 19 فیصد، دیوالیہ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا، بلومبرگ

انہوں نے ٹوئٹر پراپنے ایک پیغام میں بتایا کہ ہم نے ڈیفالٹ کو محفوظ کر لیا ہے۔ فروری،مارچ2022میں اور ابھی یورو بانڈ کی پیداوار چیک کریں۔ یہ واضح ہے۔ نہیں؟۔

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں بلوم برگ نے پاکستانی یورو بانڈ پر شرح منافع 19 فیصد تک پہنچنے پر ملک  کے دیوالیہ ہونے کے  خطرات ظاہر کیے تھے ۔

امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے پاکستانی معیشت کے حوالے سے خطرناک اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے سنگین خدشات کا اظہا رکیا تھا ۔

بلوم برگ کا کہنا ہے کہ پاکستان یوروبونڈ 2024 پر شرح منافع 19 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ یا 8 مارچ کے بعد پاکستانی بانڈز پر منافع میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔

بلوم برگ کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے اختتام پر پاکستانی یورو بانڈ پر منافع 6 فیصد تھا،پاکستانی قرضے پچھلی حکومت کے مقابلے میں اب تین گنا مہنگے ہوگئے۔ بلوم برگ کا کہنا ہے کہ بانڈ کی زیادہ شرح منافع ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

متعلقہ تحاریر