پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچا لیا ہے، اسحاق ڈار

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کی خبر پرسوں تک آئی تھی ، تاہم امید اچھے کی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی پوزیشن آئندہ چند دنوں تک بہتر ہو جائے گی۔ معیشت سے متعلق فیصلوں میں آزاد نہ ہوتا تو کبھی وزارت قبول نہ کرتا۔ کہتے ہیں روس سے بھارت سے بھی زیادہ سستا تیل خریدیں گے، فیٹف کے تمام ایکش پلان پر عملدرآمد کر لیا مثبت اعلان کی امید ہے، ڈالر کی اصل ویلیو 2 سو سے نیچے لائیں گے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا ڈالر کی اصل قدر 200 روپے سے کم ہے ، اضافہ مصنوعی ہے۔ امید ہے آنے والے دنوں میں اچھی خبریں آئیں گی۔ معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں پریشانی کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا فہد حسین وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ چھوڑنے والے ہیں؟

کیپٹن (ر) صفدر نے پانامہ کیس میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پر ملوث ہونے کا الزام لگا دیا

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا پاکستان اب پیرس کلب نہیں جائے گا۔ ابھی ہم نے بہت کام کرنا ہے۔ ریاست ہو گی تو سیاست بھی ہوگی۔ مہنگائی نہ 6 ماہ میں آتی ہے نہ 6 ماہ جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے بہت چیلنج بن کر آئی ہے، سب نے کہا تھا اس وقت اقتدار لینا بہت مشکلات پیدا کرے گا ، پاکستان کو ٹھیک کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے سیاست بعد میں ہوتی رہے گی۔ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ماضی میں بھی ہم نے معیشت کو مینج کیا اب بھی کریں گے۔ ہم پوری کوشش کریں گے کامیابی ملے گی۔

انہوں نے کہا میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کچھ نہیں ہوگا گھبرانے کی ضرورت نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ہر روز یہاں ڈرامے ہوتے ہیں کہا جاتا ہے یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے گا۔ ہر کسی کو اپنی قومی ڈیوٹی ادا کرنی چاہیے۔ ہم جی ڈی پی گروتھ بڑھائیں گے مگر سیلاب کی وجہ سے اس سال گروتھ 2 فیصد رہے گی۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا مہنگائی پچھلے پونے چار سال کی مس مینجمنٹ اور خراب گورننس کا نتیجہ ہے۔ اگر میں ناکام ہوتا تو چوتھی مرتبہ وزیر خزانہ نہ بنتا۔ ملک اس وقت جہاں کھڑا ہے بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا اگر بھارت روس سے سستا تیل خرید سکتا ہے ہم کیوں نہیں خرید سکتے۔ دسمبر میں ایک ارب ڈالر بانڈ شیڈول کے مطابق میچور ہوگا۔ نواز شریف دور میں معیشت ترقی  کی جانب گامزن تھی ۔ ہم نے 2030 تک اٹلی کی معیشت سے بہتر ہوجانا تھا۔ ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا۔ 2013 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے مسلم لیگ ن نے حکومت نے معاشی استحکام پیدا کیا۔ پچھلی حکومت میں روپے کی قدر میں کمی کے ساتھ ساتھ شرح سود بلند تھی۔ ڈبل ڈیجٹ مہنگائی تھی جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بھی کم تھے۔ 2013 میں 6 سے 7 میں پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کی خبریں پھیلائی جارہی تھیں ، فی الحال اتحادی حکومت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ اس سال پاکستان کو 32 سے 34 ارب ڈالر کی بیرونی ضروریات ہیں۔ وزیراعظم سے بات کی ہے کہ پیرس کلب کے قرضے ری شیڈول کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا سیلاب سے ملکی معیشت کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ میں نے کبھی ٹیکس ریٹرن فائل کرنے میں تاخیر نہیں کی۔ گذشتہ حکومت ملکی معیشت کو جس نہج پر لے آئی اس کو چھ میں درست نہیں کیا جاسکتا۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ 2013 میں مہنگائی کی بھرمار اور زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم تھے۔ 2013 میں اقتدار میں آتے ہی ملکی معاشی صورتحال کے باعث آئی ایم ایف پروگرام میں گئے۔ 2013 میں اقتدار ملنے کے تین سال بعد مہنگائی کم کی اور معاشی شرح نمو 6 فیصد پر لائے۔ 2016 میں عالمی ادارے کہہ رہے تھے کہ 2030 تک پاکستان جی ٹوئینٹی ممالک کا حصہ ہو گا، اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں پانامہ کے ڈرامہ نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کیا۔

متعلقہ تحاریر