مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں مخالفین کی اموات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے؟

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کے ایک صارف علی فاروقی نے الزام عائد کیا ہے کہ شریف خاندان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اموات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، ارشد شریف کو شریف خاندان نے قتل کروایا وہ ان کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات میں مصروف تھے

پاکستان مسلم لیگ نون کے اقتدار میں آتے ہی ان کے مخالفین کی اموات کا سلسلہ شروع ہوتا جاتا ہے۔ ٹوئٹر صارف علی فاروقی ارشد شریف کے قتل میں شریف خاندان  کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا ۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کے ایک صارف علی فاروقی نے الزام عائد کیا ہے کہ شریف خاندان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اموات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ارشد شریف کا قتل  بھی انہیں لوگوں کی سازش ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

ارشد شریف  قتل کیس: چار اہم سوالات تاحال جواب طلب !

صحافی ارشد شریف حکومت کی تبدیلی کی کارروائیوں کے خلاف مسلسل بول رہے تھے اورشریف مافیا کی منی لانڈرنگ پرایک دستاویزی فلم کا حصہ تھے۔ انہیں نیروبی، کینیا میں گولی مار دی گئی۔

علی فاروقی نے کہا کہ رمضان شوگر کیس کے اہم گواہ گلزار احمد کو سلو پوائزنگ کے ذریعے قتل کروایا گیا جبکہ اسی کیس میں رمضان شوگر کے جعلی اکاؤنٹس سے رقم نکالنے کا گواہ اور ذمہ دار مزمل راجہ امراض قلب کے باعث انتقال کرگئے جبکہ انہیں دل کا عارضہ کبھی لاحق نہیں تھا ۔

بے نامی اکاؤنٹ ہولڈرغلام شبیر  بھی دل کا دورہ پڑنے سے جان کی بازی ہارے جبکہ ان کی بھی امراض قلب میں مبتلا ہونے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ غلام شبیر منی لانڈرنگ والے اکاؤنٹ کے بے نامی مالک رہے ۔

ٹوئٹر صارف نے دعویٰ کیا کہ شریف خاندان کا ملازم مقصود چپڑاسی جوکہ کیس کا اہم گواہ بھی تھا اور کئی بے نامی اکاؤنٹ کا مالک تھا  وہ اپنے اکاؤنٹ میں نا معلوم وجوہات کی بنا پر مردہ پایا گیا ۔

یاد رہے کہ ملک مقصود احمد (مقصود چپڑاسی ) رمضام شوگر ملز کے ملازم تھے۔ پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد وہ 2018 میں متحدہ عرب امارات چلے گئے تھے اور ان کا انتقال دبئی میں ہوا تاہم  ان کی موت کی وجہ دل کے دورے کو قرار دیا گیا تھا ۔

علی فاروقی نے اپنے تھریڈ میں کہا کہ  شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کرنے والے افسر ڈاکٹر رضوان، شہباز شریف اور حمزہ شریف کے مسلسل دباؤ کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔

صارف نے کہا کہ عمران رضا جوکہ رانا ثناء اللہ اور شریک ملزمان کے خلاف مقدمات کے تفتیشی افسر تھے وہ وزارت داخلہ کے مسلسل دباؤ کی وجہ سے انہوں نے خودکشی کی۔

خیال رہے کہ ایڈیشنل کمشنر ریونیو عمران رضا عباس نے لاہور کے علاقے فیصل ٹاؤن میں اپنی رہائش گاہ میں پھندا لگاکر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا ۔

متعلقہ تحاریر