ارشد شریف قتل کیس: تحقیقاتی ٹیم کینیا میں تحائف کے تبالوں میں مصروف

تحقیقاتی ٹیم کے رکن عمر شاہد حامد کی کینین پولیس کے افسر سے شیڈول وصول کرنے کی تصویر سامنے آگئی، خاتون سفارتکار کی کینین پولیس کے افسر کیساتھ خوش گپیاں۔

ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کیلیے کینیا جانے والی تحقیقاتی  ٹیم  کینین حکام کے ساتھ تحائف کے تبادلے میں مصروف ہوگئی۔

واضح رہے کہ کینیا کی پولیس نے پاکستانی صحافی ارشد شریف کو شناخت کی غلطی پر قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ارشد شریف کی والدہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی عدم فراہمی پر عدالت پہنچ گئیں

ارشد شریف  قتل کیس: چار اہم سوالات تاحال جواب طلب !

سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کے بعد حکومت پاکستان نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کی سربراہی میں 2 رکنی ٹیم کو کینیا روانہ کیا تھا۔

دو رکنی تحقیقاتی ٹیم میں شامل ڈائریکٹر ایف آئی اے اطہر وحید اور انٹیلی جنس بیورو(آئی بی) کے ڈپٹی ڈی جی عمر شاہد  حامد  کینیا میں ارشد شریف کی میزبانی کرنے والے پاکستانی بھائیوں وقار احمد اور خرم احمد کےبیانات ریکارڈ کرچکے ہیں اور دیگر تحقیقات میں مصروف ہیں۔

تاہم پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کے ارکان اور پاکستانی سفارتی عملے کینین حکام سے خوشگوار ماحول میں ملاقاتوں اور تحائف  کے تبادلے کی تصویر سامنے آئی ہیں۔

ایک تصویر میں تحقیقاتی ٹیم کے رکن عمر شاہد حامد کو کینین پولیس کے حکام سے شیلڈ وصول کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اطہر وحید کو بھی ان کے ساتھ کھڑا دیکھاجاسکتا  ہے۔

ایک اور تصویر میں تحقیقاتی ٹیم کے رکن عمر شاہد حامد کو خاتون پاکستانی سفارتکار کے ساتھ کینین فوج کے افسر کے ساتھ  خوش گوار ماحول میں ملاقات کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کےارکان کی کینین پولیس کے حکام سے ملاقاتیں اور تحائف کی وصولی نے تحقیقات پر سنجیدہ سوالات اٹھادیے ہیں۔یاد رہے کہ کینیا کی پولیس تسلیم کرچکی ہے کہ ارشد شریف شناخت میں غلطی کی بنیاد پر ان کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے موجودہ کشیدہ ترین حالات میں تحقیقاتی افسران کو میزبان پولیس سے تعلقات بڑھانے کے بجائے اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے ۔

متعلقہ تحاریر