نشاط لینن کی نئی کلیکشن میں چوری کا پرنٹ استعمال کیے جانے کاانکشاف
سوشل میڈیا صارفین خریداروں اور پرنٹ کے تخلیق کار فنکار کے ساتھ دھوکا دہی پر پاکستان کے بڑے کاروباری گروپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

ملک کی ممتاز فیشن برانڈ نشاط لینن کی کلیکشن میں چوری کا پرنٹ استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین خریداروں اور پرنٹ کے تخلیق کار فنکار کے ساتھ دھوکا دہی پر پاکستان کے بڑے کاروباری گروپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
علی ظفر نے اعظم جمیل کو عفت عمر سے متعلق کیا مشورہ دیدیا؟
انڈسٹری میں زیادہ تر لوگ دھوکے باز ہیں، عشنا شاہ نے شوبز کا پول کھول دیا
لاہور سے تعلق رکھنے والی فیس بک صارف مشعل اے چوہدری نے وائس آف کسٹمر نامی پبلک گروپ پر ایک رجسٹر اور ایک کرتے کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ گزشتہ روز میں امپوریم گئی اورنشاط کی نئی کلیکشن میں موجود یہ قمیص دیکھی ۔

خاتون نے اپنی پوسٹ کے طنزیہ کیپشن میں لکھا کہ 5 ہزار روپے سے5کروڑ کیسے بنائے جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ قمیص کا ڈیزائن میرے اس رجسٹر کی 100 فیصد نقل تھا جو میں نے ڈیڑھ سال قبل اردو بازار سے 120 روپے میں خریدا تھا، نشاط کے ڈٰیزائنر اس طرح کام کرتے ہیں۔خاتون کی جانب سے شیئر کردہ تصاویر میں قمیص اور نوٹ بک پر گلابی، سیاہ اور سفید رنگ کی بطخیں بنی ہوئی ہیں۔
خاتون کی اس پوسٹ پر صارفین ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئے اور پاکستان کے بڑے کاروباری گروپ کو اس دھوکہ دہی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ اردوبازار اور نشاط دونوں نے یہ ڈیزائن گوگل سے اٹھایا ہے۔ایک اور صارف نے لکھا کہ فرق یہ ہے کہ اردو بازار کسی چیز کیلیے ہاتھ یا پاؤں کا تقاضا نہیں کرتا جو ان کی نہیں ہے۔
ایک خاتون نے تبصرہ کیا کہ میں نے ایک مرتبہ نشاط پر قمیص دیکھی جو فلم ویلکم میں مجنوں بھائی کی گھوڑے والی پینٹنگ کی ہوبہو نقل تھی۔
ایک اور صارف نےلکھا کہ یہ اس وقت ہوتا ہے جب آپ ریفرنس والے بندے کو اس قابل امیدوار پر ترجیح دیتے ہیں جس کے پاس کوئی ریفرنس نہیں ہوتا۔
ایک خاتون صارف نے لکھا کہ نوٹ بک میں ڈیزائن معنی نہیں رکھتا کیونکہ وہ پروڈکٹ نہیں ہوتا لیکن نشاط کے معاملے میں ڈیزائن ہی پروڈکٹ ہوتا ہے کیونکہ کپڑے اپنی قیمت کے ایک چوتھائی کے بھی قابل نہیں ہوتے۔
View this post on Instagram
ایک صار ف سید عاصم علی شاہ نے اس ڈیزائن کے حقیقی خالق کو بھی ڈھونڈ نکالا۔انہوں نے پوسٹ پر تبصرے میں لکھا کہ ایک ڈیزائنر ہونے کے ناطے میں نے تھوڑی بہت تحقیق کی اور مجھے معلوم ہوا کہ یہ السٹریشن ویرونا، اٹلی میں مقیم مصور گیاکومو بگاناراکے نے بنائی ہے۔ انہوں نے یہ ڈیزائن 2015 میں بنایا تھا ، میرے خیال میں نشاط لینن نے اسٹاک امیجز کو براہ راست استعمال کیا جو اتنا اچھا نہیں ہے۔ یا ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ڈیزائن کے مالک سے رابطہ کیا ہو۔









