وزیراعظم شہباز شریف کے لندن میں طویل قیام کی وجوہات کیا ہیں ؟
وزیراعظم کا لندن میں قیام طویل ہونے پرملک میں مختلف افواہیں گردش کرنے لگیں تاہم مسلم لیگ نون کے مطابق شہباز شریف مسلسل سفر کی وجہ سے شدید تھکاوت کا شکار ہوئے جس پر ڈاکٹرزنے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے، ان کی واپسی جلد ہوگی جبکہ ذرائع نے بتایا کہ شہباز شریف پارٹی قائد سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال میں مصروف ہیں، نئے فوجی سربراہ کا اعلان کرکے ہی پاکستان آئے گے

وزیراعظم شہبازشریف کا لندن میں قیام طویل ہونے پر ملک میں مختلف افواہیں گردش کرنے لگیں ہیں۔ وزیراعظم مصر میں کانفرنس میں شرکت کے بعد وطن واپس آنے کے بجائے لندن چلے گئے تھے ۔
وزیراعظم گزشتہ کئی روزسے لندن میں قیام پذیرہیں جہاں انہوں نے اپنے بڑے بھائی اور نون لیگ کے قائد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور پارٹی کی نائب صدر مریم نواز سے اہم ملاقات کی ۔
یہ بھی پڑھیے
ڈیلی میل کے خلاف مقدمہ ، وزیر اعظم شہباز شریف کو لینے کے دینے پڑ گئے
وزیراعظم شہبازشریف مصر میں ایک اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپسی کے لیے روانہ ہونے والے تھے کہ اچانک سے ان کے پروگرام میں تبدیلی آئی اور وہ لندن روانہ ہوگئے ۔
لندن میں وزیراعظم نے پارٹی قائد نوازشریف سے اہم ملاقات کی جس میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے گفتگو کی گئی تاہم وزیراعظم نے تصدیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے فیملی میٹنگ قرار دیا ۔
اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو گزشتہ روز وطن واپس آنا تھا جس کے لیے نجی جہاز بھی بندوست کیا گیا تھا مگر ان کی واپسی ممکن نہ ہوسکی۔ شہباز شریف نے آج بروز ہفتہ واپسی کا ارادہ ظاہر کیا تھا تاہم وہ آج بھی وطن نہیں آئے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ وزیراعظم لندن میں موجود نون لیگ کے اعلیٰ قیادت کے ساتھ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے اعلان کے بعد وطن واپس آئیں گے۔ نون لیگ کی تمام اعلیٰ قیادت لندن میں موجود ہے ۔
شہبازشریف کی طبیعت کی ناسازی اور لندن میں ڈیلی میل کے مقدمے کے حوالے سے بھی کہا جارہا ہے کہ شاید وزیراعظم کا لندن میں طویل قیام ان وجوہات کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے ۔
پاکستان مسلم لیگ نون کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف مسلسل سفر کی وجہ سے شدید تھکاوٹ کا شکار ہیں جس کے باعث انہیں ڈاکٹرز نے آرام کا مشورہ دیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
سزا یافتہ مفرور شخص کا ملک کے اہم ترین فیصلے کرنا قوم کی توہین ہے، عمران خان
یاد رہے کہ 2 روز قبل برطانوی عدالت نے شہباز شریف اور ان کے داماد عمران علی یوسف کی طرف سے ڈیلی میل کے مالک اور ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز لمیٹڈ کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے میں توسیع کی درخواست مسترد کی تھی ۔
عدالت نے شہباز شریف کو30,000 برطانوی پاؤنڈ جبکہ عمران علی یوسف کو 27,055 برطانوی پاؤنڈ قانونی فیس ادا کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے کیونکہ دونوں کی جانب سے جواب جمع کروانے میں تاخیر کی جارہی تھی۔









