وزیراعظم شہباز شریف لندن کے 5 روزہ لاحاصل دورے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے

ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن دورے کے دوران شہباز شریف نے ملکی سیاسی صورتحال سمیت نئے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے میاں نواز شریف سے متعدد ملاقاتیں کیں جو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں۔

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف لندن کا اپنا 5 روزہ ‘غیر نتیجہ خیز’ دورہ مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے ، لندن میں انہوں نے اپنی پارٹی کے سربراہ نواز شریف سے طویل مشاورت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی لندن یاترا کے دوران سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملکی سیاسی صورتحال اور آرمی چیف کی اہم تقرری کے حوالے سے کئی مشاورتی دور کیے۔ وزیراعظم کا پہلے جمعہ کے روز پاکستان روانہ ہونا تھا لیکن روانگی کے حوالے سے کئی بار تاخیر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے آبائی شہر نوڈیرو کا ریلوے اسٹیشن یا بھوت بنگلہ

آئی ایم ایف اور سعودی ولی عہد نے شہباز شریف حکومت کو ٹھینگا دکھا دیا

ذرائع نے نیوز 360 کو بتایا کہ نئے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے میاں نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی مشاورت بے نتیجہ رہی کیونکہ وزارت دفاع کی جانب سے نئے آرمی چیف کے عہدے کے لیے پانچ نامزد جرنیلوں کی فہرست ابھی تک آگے نہیں بھیجی۔

تجزیہ کاروں نے سوال کیا کہ اہم تقرری کے حوالے سے وزارت دفاع کی جانب سے کوئی سفارش نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم شریف نے بغیر کسی نتیجے کے لندن میں پانچ دن کیوں گزارے۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی تعطل ابھی ختم ہونا باقی ہے کیونکہ آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

نئے آرمی چیف کی تقرری:اسٹیبلشمنٹ نے گیند نواز شریف کے کورٹ میں ڈال دی

واضح رہے کہ نئے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے جی ایچ کیو سے 5 نام ابھی آنا باقی ہیں۔ یہ نام وزارت دفاع کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں جو ابھی تک موصول نہیں آئے۔

یاد رہے کہ ملک میں یہ خبریں بھی گردش کرتی رہی ہیں کہ موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کردی جائے یا لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کو فوج کا نیا سربراہ مقرر کردیا جائے ، تاہم طاقتور حلقوں میں تقسیم کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے گیند نواز شریف کے کورٹ میں ڈال دی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران آرمی چیف کے عہدے کے لیے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کے نام پر طاقتور حلقے تقسیم کا شکار ہو گئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ طاقتور حلقوں کی جانب سے نواز شریف کو پاکستان واپسی کی پیشکش کی گئی ہے ، اور انہیں لیول پلیئنگ فیلڈ دیئے جانے کی پیش کش بھی کی گئی تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت طاقتور حلقوں کی سفارشات قبول کرتی ہے تو قومی اسمبلی تحلیل کردی جائے گی اور نگراں حکومت نئے انتخابات کے شیڈول کا اعلان کرے گی۔ اور اس طرح نئے آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ نئی حکومت کرے گی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی حکومت سے یہی مطالبہ کیا ہے کہ جنرل قمر جاوید کی مدت ملازمت میں توسیع کردی جائے اور نئے انتخابات کا اعلان کردیا جائے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اپنی متعدد تقاریر میں زور دے کر کہہ چکے ہیں کہ نئے آرمی چیف کی تقرری میرٹ پر ہونا چاہیے۔

متعلقہ تحاریر