حکومت اور شوگر ملز مالکان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی ناکام
وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ چینی کی درآمد کی اجازت اس وقت نہیں دی جاسکتی جب تک ملز مالکان چینی کا اسٹاک شو نہیں کریں گے۔
وفاقی حکومت اور شوگر ملز مالکان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور بھی ناکام ہوگیا۔ وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ چینی کی درآمد کی ابھی تک اجازت نہیں دے سکتے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی ٹیم اور شوگر ملز مالکان کے وفد کے درمیان ہونے والے مذاکرات ایک مرتبہ پھر بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔ مذاکرات میں چینی کی برآمد پر فیصلہ نہ ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیے
انٹربینک میں ڈالر11 پیسے مہنگا مگر اوپن مارکیٹ میں مستحکم رہا
وفاقی حکومت کا قسطوں پر موبائل فونز دینے کا اعلان
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شوگر ملز مالکان 2 دسمبر تک ملک میں موجود چینی کے اسٹاک کی تفصیلات وزارت پیداوار کو جمع کرائیں گے۔
اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ چینی کی درآمد کی ابھی تک اجازت نہیں دی، شوگر ملز کو ایک فارمولہ دیا ہے ، شوگر انڈسٹری اس کے ساتھ آئے تو دیکھیں گے، پنجاب حکومت نے پہلے کہا چینی کے اسٹاک کم ہیں ،برآمد کی اجازت نہ دی جائے۔
طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ آج پنجاب حکومت نے اپنے پہلے موقف پر 180 ڈگری کا یوٹرن لیا ، پنجاب حکومت کا اب موقف ہے کہ چینی بہت زیادہ مقدار میں موجود ہے۔
وفاقی وزیر تجارت نوید قمر نے کہا کہ ابھی تک مسئلہ چینی کے اسٹاک کی پوزیشن کا رہا ، چینی کے اسٹاک کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے ، تھرڈ پارٹی کی طرف سے چینی کے اسٹاک کی تعداد کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔
ذکا اشرف نے کہا کہ حکومت نے برآمد کی ابھی اجازت نہیں دی ، لمبی سڑک پر ڈال دیا ہے۔
ذکا اشرف کا کہنا تھا کہ چینی برآمد کرنے کی اجازت نہ ملنے پر شوگر ملز ایسوسی ایشن کا اجلاس طلب کریں گے۔ شوگر ملز نے ابھی تک ہڑتال نہیں کی ہے۔
ذکاء اشرف کا کہنا تھا کہ کے پی ، سندھ ، پنجاب کی شوگر ملز چینی برآمد کرنے کے فیصلے کا انتظار کر رہی ہیں ، شوگر ملز کو بینکوں کے اربوں روپے ادا کرنے میں مسائل کا سامنا ہے ، شوگر صعنت کو یومیہ 10 کروڑ روپے کا نقصان ہورہ ہے ، اگر یہی صورتحال رہی تو ایک سیزن میں 4 سے 5 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔









