پولیس اہلکار کو قتل کرکے بیرون ملک فرار ہونے والے ملزم خرم نثار کا وڈیو بیان آگیا

پولیس اہلکار پولیس وردی میں نہیں تھے، مجھے تھانے کے بجائے کہیں اور لے جانا چاہ رہے تھے، اہلکار نے مجھ پر فائر بھی کیا تھا لیکن گولی چل نہیں سکی، پولیس اہلکاروں کو اغواکار سمجھ کر فائرنگ کی۔ ملزم نے اپنے گرفتار سالے کو بے قصور قرار دیدیا۔

کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 5 میں  رواں ہفتے فائرنگ کرکے شاہین فورس کے اہلکارعبدالرحمان کو قتل کرکے بیرون ملک فرار ہونے والے ملزم خرم نثار  نے وضاحتی ویڈیو بیان جاری کردیا۔

ملزم نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس اہلکار پولیس وردی میں نہیں تھے، مجھے تھانے کے بجائے کہیں اور لے جانا چاہ رہے تھے، اہلکار نے مجھ پر فائر بھی کیا تھا لیکن گولی چل نہیں سکی، پولیس اہلکاروں کو اغواکار سمجھ کر فائرنگ کی۔ ملزم نے اپنے گرفتار سالے کو بے قصور قرار دیدیا۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی میں ایک اور بگڑے نواب کے ہاتھوں پولیس اہلکار کا قتل

ڈیفنس میں پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث ملزم پولیس کو چکمہ دے کر سوئیڈن فرار

 مفرور ملزم  خرم نثار نے وڈیو بیان  میں دعویٰ کیا ہے کہ”    میرا سالہ واقعے کے حوالے سے لاعمل تھا سالے کو علم نہیں تھا کہ بات اتنی بڑھ گئی ہے، میں نے اپنے سالے کی مدد سے سفری دستاویزات گھر سے منگوائے تھے جو کہ ایک عام سی بات تھی، سالے کو کہا تھا کہ میری لڑائی ہوئی ہے اور کوئی بڑی بات نہیں ہے، میں جلد جا رہا ہوں ویسے مجھے جانا ہی تھا“۔

خرم نثار نے کہا کہ” عبداللہ شاہ غازی مزار کے قریب جو کچھ میرے ساتھ ہوا مجھ پر الزام لگائے گئے، ایک الزام یہ ہے کہ میری گاڑی میں اسلحہ موجود تھا، کیا پولیس اہلکاروں کو میری گن نظر آرہی تھی؟ دوسرا الزام مجھ پر اغوا کا لگایا گیا کہ بوٹ بیسن سے میں نے کسی لڑکی کواغوا کیا، پہلی بات  یہ ہے کہ میں بوٹ بیسن گیا ہی نہیں، راستے میں 100 سے 200 کیمرے لگے ہوں گے کیمروں میں میری ایک بھی تصویر دکھا دی جائے“۔

مفرور ملزم خرم نثار کا کہنا ہے کہ” مجھے روکنے کا کام شاہین پولیس کے اہلکار کا نہیں تھا،پولیس اہلکار یونیفارم میں بھی موجود نہیں تھا،مجھے روکا گیا تو پولیس اہلکار کے ہاتھ میں گن تھی اور وہ کہہ رہا تھا کہ گاڑی کا گیٹ کھولو،پولیس اہلکار نے زور لگا کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور میں نے گاڑی کے شیشے نیچے کر کے پوچھا کون ہو تو جواب ملا پولیس والے ہیں، میں نے اہلکار سے کہا اگر آپ پولیس والے ہو تو اپنا آئی ڈی کارڈ دکھاؤ، میں نے کہا اگر آپ اپنا کارڈ شو نہیں کراؤ گے تو میں آپ کو پولیس اہلکار نہیں سمجھوں گا، پولیس اہلکار نے اسی وقت مجھ پر فائرنگ کرنے کی کوشش کی    جس پر میں نے گاڑی تھوڑی سی آگے بڑھا دی اور کچھ فاصلے پر جا کر گاڑی روک دی، میری گاڑی میں لائسنس یافتہ گن موجود تھی جو میں پکڑ کر گاڑی کے باہر نکل کر کھڑا ہو گیا“۔

مفرور ملزم کا ویڈیو بیان میں کہنا تھا کہ ”گاڑی کے باہر پولیس اہلکار میری اور میں ان کی ویڈیو بناتا رہا ،میری ویڈیو صحیح بن نہیں پائی لیکن پولیس اہلکار کی ویڈیو بن گئی جس پر میں نے پولیس اہلکار کو کہا کہ موبائل بلوالو کس تھانے جانا ہے میں چلتا ہوں، لیکن پولیس اہلکار مجھے تھانے لے جانا نہیں چاہ رہے تھے، پولیس اہلکار جب تھانے جانے پر راضی ہوگئے تو راستے میں ایک پولیس اہلکار کہنے لگا تھانے کے بجائے کہیں اور جانا ہے، تو میں نے کہا تھانے جا کر مجھے یقین ہو جائے گا کہ تم پولیس اہلکار ہو لیکن اس نے میری بات نہیں مانی اور زبردستی دوسرے راستے لے گیا، راستے میں، میں نے جیسے ہی یو ٹرن سے گاڑی موڑنا چاہی تو پولیس اہلکار نے گاڑی کا اسٹیرنگ پکڑ لیا اور گاڑی نیوٹرل کردی“۔

ملزم نے کہا کہ” جیسے ہی گاڑی نیوٹرل ہوئی میں گاڑی سے اترگیا تو پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ہم تجھے وہاں ضرور لیکر جائیں گے اور تیرے ساتھ بہت برا کریں گے، میں ڈر گیا میں نے کہا میں نہیں جاؤ گا، میری تھانے جانے کی بات ہوئی ہے، پولیس اہلکار نے گاڑی کے اندر داخل ہو کرمجھ پر فائر کردیا لیکن پولیس اہلکار کی گولی نہیں چل سکی ،گاڑی سے باہر نکل کر مجھے باتوں میں لگا کر پولیس اہلکار اپنے انگوٹھے سے پستول کا چیمبر صحیح کرنے لگا تاکہ دوبارہ مجھ پر فائرنگ کرسکے، میں ڈر گیا تھا مجھے اپنے بیوی بچوں کی یاد آگئی ،میں نے اپنے دفاع میں پولیس اہلکار پر فائرنگ کردی“۔

مفرور ملزم کا کہنا ہے کہ ”میرا مقصد پولیس اہلکار کو مارنا نہیں بلکہ اپنی جان بچانی تھی، کیا  میں نے  اپنی جان بچا کر گناہ کیا؟ میں اور کیا کرسکتا تھا؟ مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ اصلی پولیس اہلکار ہے بھی یا نہیں! مجھے مجبوراً گولی چلانا پڑی، مجھے پولیس اہلکار کو مارنا ہوتا تو میں شروع میں ہی مار دیتا“۔

ملزم نے مزید کہا کہ”جب شروع میں پولیس اہلکاروں نے زور سے گاڑی کا دروازہ کھولا تو میں سمجھا تھا کہ اغوا کار ہیں، میں اپنے بوڑھے والدین سے ملنے آیا تھا اور اکثر آتا جاتا رہتا ہوں، میری گن لائسنس یافتہ ہے اور گزشتہ 18 سال سے میرے پاس ہے لیکن میں نے 18 سال میں کبھی بھی گن کا غلط استعمال نہیں کیا ورنہ میرا ریکارڈ نکل آتا، میں نے  اپنے  دفاع کے لیے اپنی گن کا استعمال کیا“۔

متعلقہ تحاریر