حالیہ تعیناتیوں میں ترقی ملنے میں ناکامی: کچھ جرنیلوں کا قبل ازوقت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ

رپورٹس کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس نے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرلیا جبکہ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود غور کررہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے نئے آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CJCSC) کی تقرری کے بعد سروس سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے پر غور شروع کردیا ہے ، نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود بھی قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے سکتے ہیں ، جبکہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر سے بھی استعفیٰ طلب کرلیا گیا ہے۔

یہ اطلاعات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب حکومت نے جنرل سید عاصم منیر کو اگلے تین سال کے لیے چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) اور جنرل ساحر شمشاد مرزا کو سی جے سی ایس سی مقرر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان نے تمام صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کردیا

عمران خان ابھی تک نئی فوجی قیادت کو مبارکباد دینے سے گریزاں

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس فوج میں دو اعلیٰ ترین عہدوں کے لیے چھ امیدواروں کی فہرست میں شامل تھے۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید جو اس وقت بہاولپور کور کے کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، 30 اپریل 2023 کو ریٹائر ہونے والے ہیں جبکہ لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس اس وقت چیف آف جنرل اسٹاف (سی جی ایس) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی ریٹائرمنٹ بھی 27 اپریل 2023 مین ہونی ہے۔

جیسا کے ابتدا میں ذکر کیا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود بھی قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے سکتے ہیں ، تاہم ذرائع یہ بات کنفرم نہیں کررہے ، لیکن ذرائع یہ ضرور کنفرم کررہے ہیں کہ وہ ریٹائرمنٹ پر غور کررہے ہیں۔

یاد رہے کہ وزارت دفاع کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو موصول ہونے والی سنیارٹی لسٹ میں لیفٹیننٹ جنرل  نعمان محمود کا نام تیسرے نمبر تھا تاہم وہ ایک مضبوط کیریئر کے حامل جنرل ہیں۔

پاکستان کی مغربی سرحدوں کے حوالے سے فوج میں لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو ماہر مانا جاتا ہے۔

نعمان محمود کے والد کرنل راجہ سلطان نے 1971 کی جنگ میں حصہ لیا تھا تاہم وہ مسنگ ان ایکشن افسر ہیں۔ نعمان محمود نے اپنے والد کی یونٹ 22 بلوچ کمانڈ میں ہی شمولیت اختیار کی تھی۔

دوسری طرف نیوز 360 کے ذرائع نے بتایا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر سے استعفیٰ طلب کرلیا گیا اور انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد کو کسی بیرون ملک سفیر مقرر کردیا جائے گا۔

وزارت دفاع کی جانب سے موصول ہونے والی سمری میں لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر سب سے خاموش طبیعت کے افسر تھے ۔

لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر آرٹلری سے تعلق رکھتے ہیں اور سابق صدر آصف علی زرداری کے ملٹری سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔

وہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ڈائریکٹر جنرل اسٹاف ڈیوٹیز تھے اور آرمی چیف سیکرٹریٹ کے امور کی نگراتی کرتے تھے۔ بطور میجر جنرل انھوں نے لاہور ڈویژن کی بھی کمان کی تھی۔

لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر اس وقت کور کمانڈر گوجرانوالہ ہیں ، اس سے قبل وہ جی ایچ کیو میں ایجوٹنٹ جنرل تھے.

متعلقہ تحاریر