سیلاب متاثرین کے لیے بھیک مانگنے والے بلاول بھٹو زرداری کے مہنگے جوتوں کے سوشل میڈیا پر چرچے
بلاول بھٹو زرداری کی ایک تصویر ٹوئٹر پر وائرل ہورہی ہے جس میں انہوں نے انٹرنیشنل برانڈ "GUCCI" کے جوتے پہن رکھے ہیں جس کی قیمت پاکستانی روپے میں 7 لاکھ 80 ہزار بنتی ہے۔
دنیا بھر کے ممالک سے پاکستان اور خصوصی طور پر سندھ کے سیلاب متاثر کے لیے ایک ایک ڈالر کی بھیک مانگنے والے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے مہنگے ترین جوتوں کے چرچے سوشل میڈیا پر ہو رہے ہیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ہاشمی نامی صارف نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں انہوں نے شوز کی دنیا میں جانے مانے نام "GUCCI” برانڈ کے جوتے پہن رکھے رہیں۔
یہ بھی پڑھیے
190 ملین پاؤنڈ کا معاملہ: نیب نے بزنس ٹائیکون ملک ریاض کو طلب کرلیا
ترجمان بلوچستان حکومت اور وزیر صحت کی تصویر کو سوشل میڈیا صارفین نے آڑے ہاتھوں لے لیا
ہاشمی نامی ٹوئٹر صارف نے بلاول بھٹو زرداری کی تصویر کے ساتھ "GUCCI” برانڈ کے شوز کی تصویر بھی شیئر کی ہے ، اور یہ بھی بتایا ہے کہ شوز کی قیمت ساڑھے تین ہزار ڈالر ہے جو پاکستانی روپے میں تقریباً 7 لاکھ 80 ہزار روپے بنتی ہے۔
Great to see current Foreign (and future Prime, if the Generals have their way) Minister, Joffrey Bhutto wearing more than twice Pakistan's GDP per capita on his feet. pic.twitter.com/wh7pDdB638
— Hashim (@hashim_i) November 25, 2022
ہاشمی نامی ٹوئٹر صارف نے طنز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "موجودہ وزیر خارجہ (اور مستقبل کے وزیر اعظم، اگر جرنیلوں نے راستہ دے دیا) ، بادشاہ جیفری سے تشبیہہ دیتے ہوئے ہاشمی نے لکھا ہے کہ بلاول بھٹو نے ماہانہ بنیادوں پر فی کس جی ڈی پی سے دو گنا زیادہ مہنگے جوتے اپنے پاؤں میں پہن رکھے ہیں۔
اندرون ملک اور بیرون ممالک سے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے ایک واویلا مچایا ہوا ہے کہ ہمیں متاثرین کی بحالی کے لیے امداد کی ضرورت ہے۔ لیکن جس کوآرڈینیشن سینٹر کے ذریعے امداد کو لوگوں تک پہنچانا ہے اس کا کہیں دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ واویلا مچایا ہوا ہے کہ تباہی ہو گئی بربادی ہو گئی۔
تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اب تک سیلابی پانی میں ڈوب کر تقریباً 1800 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 7 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ 7 لاکھ 33 ہزار سے زائد مویشی پانی میں بہہ گئے ہیں جبکہ 11 لاکھ 72 ہزار سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔
29 اگست کو حکومت نے ملک میں بدترین سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے اور سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ” نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر” قائم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا مگر وہ اعلان آج تک اعلان تک ہی محدود ہے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ سندھ کے باسی اپنے گھر سے بے گھر سڑک کنارے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، جہاں نہ کھانے کو سامان میسر ہے اور نہ ہی بیماری کی صورت میں ڈاکٹر تو دور کی بات دوائی تک دستیاب نہیں ہے ، جبکہ دوسری جانب ہمارے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی شان دیکھیں کہ ساڑھے تین ڈالر کے جوتے پہن کر گھوم میں فخر محسوس کرتے ہیں۔









