اسمبلیاں بچانی ہیں یا الیکشن میں جانا ہے؟ آصف علی زرداری کنفیوژن کا شکار

سابق صدر  گزشتہ  روز ٹی وی انٹرویومیں پنجاب اسمبلی بچانے کا کوئی فارمولہ پیش کرنے میں ناکام رہے اور بڑھکیں مارتے ہوئے پنجاب اسمبلی بچانے سے متعلق سوال گول کردیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اسمبلیاں بچانے یا الیکشن میں جانے کے معاملے پر کنفیوژن کا شکار ہوگئے۔

سابق صدر  گزشتہ  روز ٹی وی انٹرویومیں پنجاب اسمبلی بچانے کا کوئی فارمولہ پیش کرنے میں ناکام رہے اور بڑھکیں مارتے ہوئے پنجاب اسمبلی بچانے سے متعلق سوال گول کردیا۔

یہ بھی پڑھیے

اسمبلی کی کیا اوقات عمران خان کیلئے جان بھی حاضر ہے، وزیراعلیٰ پنجاب

عام انتخابات وقت پر ہوں گے،اسمبلیاں ٹوٹیں تو 2 صوبوں میں الیکشن ہوگا، رانا ثنا اللہ

سابق صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ روز آج نیوز  کی اینکر عاصمہ شیرازی  کو خصوصی انٹرویو دیا۔اس موقع پر سابق صدر نے انتخابات سے قبل سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری یا نااہلی کی  پیش گوئی سمیت کئی اہم باتیں کیں لیکن پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیاں تحلیل ہونے سے بچانے کے بارے میں کوئی واضح حکمت عملی پیش نہیں کرسکے۔

اسمبلیاں تحلیل ہونے اور اس صورت حال سے نمٹنے کے طریقوں پر بات کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہنجاب میں میرے پاس نمبرز ہیں اور میں نمبرز مزید بڑھا سکتا ہوں۔

پرویز الہٰی سے مفاہمت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پرویزالہیٰ کےعلاوہ بھی بہت سی بہتر چوائس ہیں، انہیں میں نے ڈپٹی وزیراعظم بنایا، 17 وزارتیں دے چکا ہوں، پرویزالہیٰ اب دوریوں میں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قبل ازوقت انتخابات جمہوریت کیلئے اچھے نہیں اور نہ ہمارے لئے اچھے ہیں۔ اسمبلیاں تحلیل ہوئیں تو انتخاب ہوگا اور پھر دیکھتا ہوں کہ یہ (عمران خان) کتنے ایم پی اے بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ”اسمبلیاں توڑیں گے تو ہم الیکشن لڑیں گے، اگر نہیں توڑیں گے تو ہم اپوزیشن کرتے رہیں گے“۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پنجاب میں عدم اعتماد کا ووٹ لانا ممکن ہے؟ تو جواب میں زرداری نے کہا کہ ہم کے پی میں بھی تحریک عدم اعتماد لائیں گے۔

عاصمہ شیرازی نے جب ان کے سامنے یہ حقیقت رکھی کہ  پی ڈی ایم کے پاس پختونخوا میں اتنی نشستیں نہیں کہ وہ عدم اعتماد میں کامیابی حاصل کرسکیں تو آصف زرداری نے کہا، ”تھوڑے دوست گمراہ ہیں، انہیں واپس لانا ہے “۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا طریقہ کریں گے کہ استعفے نہ آئیں اور اسمبلیاں چلتی رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ” پنجاب میں ہمارے پاس عمران خان کے خلاف امیدوار موجود ہیں، میانوالی میں نواب آف کالا باغ ہماری پارٹی سے کھڑے ہوکر عمران خان کا مقابلہ کریں گے، انہوں نے ہمیں جوائن کرلیا ہے“۔

آنے والے ممکنہ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم نے ووٹ نہیں خریدے، مستقبل سے متعلق بات ضرور ہوتی ہے، لیکن ووٹ خریدنے کی کبھی ضرورت نہیں پڑی۔

متعلقہ تحاریر