ارشد شریف کی والدہ کا سابق آرمی چیف سمیت فوجی افسران کے خلاف ایف آئی آر کاٹنے کا مطالبہ

مقتول صحافی کی والدہ نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایف آئی آر میں دہشتگردی کی دفعات کو شامل کیا جائے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے کڑا امتحان ، کینیا میں قتل کیے جانے والے سینئر صحافی ارشد شریف کی والدہ نے اپنے بیٹے کے قتل کی ایف آئی آر میں سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سمیت فوج کے اعلیٰ حاضر سروس افسران کو نامزد کرنے کی درخواست کردی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کو لکھے گئے اپنے خط میں ارشد شریف کی والدہ رفعت آرا علوی نے اپنے بیٹے کی ایف آئی آر درج کرانے پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا شکریہ ادا کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بنوں میں دہشتگردوں نے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار کا سر قلم کردیا

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا وادی تیراہ اور ضلع خیبر کا دورہ

خط کے متن کے مطابق وزیراعظم (سابق) عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے بعد میرے بیٹے ارشد شریف نے ایک اصولی فیصلہ کیا۔ 15 سال تک پاکستانی فوج کے ساتھ گزارنے والے میرے بیٹے نے سیاست میں مداخلت پر فوج کے کردار پر کڑی تنقید شروع کردی۔ ارشد شریف نے پولیٹیکل انجینئرنگ میں فوجیوں کے انوالمنٹ کو سرعام چاک کرنا شروع کردیا ۔

Copy of letter
Copy of letter

31 مئی 2022 کو اے آر وائی کے ایک پروگرام "وہ کون تھا” کیا۔ اس کے بعد میرے بیٹے کو دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ دھمکیوں کے باوجود بھی جب ارشد شریف اپنے پروگرامز میں سیاست میں فوج کی مداخلت کو ایکسپوز کرتے رہے تو انہیں “fixed” کرنے کی دھمکی دی گئی۔

خط کے متن میں مزید لکھا ہے کہ ثبوتوں کے طور پر سپریم کورٹ ارشد شریف کی جانب سے صدر پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے ہوئے خطوط کو دیکھ سکتی ہے ، ان خطوط میں ارشد شریف نے اپنی جان جانے کے خطرے سے آگاہ کیا تھا اور انصاف کا مطالبہ کیا تھا۔

9 اگست 2022 کو ارشد شریف کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج ہوئی اور اسے رپورٹس بھی موصول ہونے لگیں۔ پاکستان میں اسے متعدد معتبر ذرائع سے اپنے قتل کے منصوبے کی خبر ملی ۔ اس نے ہمیں بتایا کہ کچھ قاتل اس کا پیچھا کر رہے ہیں اور گھر کے قریب بھی آ چکے ہیں، اسے اپنی حفاظت کے لیے پاکستان چھوڑنا پڑا ہے۔  وہ 10 اگست 2022 کو پشاور سے دبئی روانہ ہو گیا۔ اس نے اپنے آخری ماہ کے زیادہ تر ایام گھر کے اندر گزارے۔

دبئی پہنچنے کے کچھ دنوں بعد ارشد شریف کو ایک دن یو اے ای کے ایک اہلکار نے اس سے ملاقات کی اور کہا کہ اسے 48 گھنٹوں کے اندر یو اے ای چھوڑنا ہوگا کیونکہ ان کی حکومت پر ارشد شریف کو واپس پاکستان ڈی پورٹ کرنے کا دباؤ ہے۔

ارشد شریف دبئی سے کینیا روانہ ہو گیا ، جہاں اس نے وقار احمد کے رہائش گاہ پر قیام کیا۔ اے آر وائی نیوز کے سی ای او سلمان اقبال اور طارق وصی نے وقار احمد سے ارشد شریف سے ملاقات کرائی تھی۔ (جیسا کہ ایف ایف ٹی رپورٹ سے تصدیق کی گئی ہے) کینیا میں ارشد تقریباً 2 ماہ تک رہے۔

خط کے متن میں لکھا گیا ہے کہ ارشد شریف کی ٹارگٹ کلنگ کی وجہ سے پاکستان کی پوری صحافی برادری خوف پایا جاتا ہے ، اس کیس میں بین الاقوامی سطح کے شرپسند عناصر ملوث ہیں۔

خط  میں کہا گیا ہے کہ میری آپ سے درخواست ہے کہ ایف آئی آر میں دہشتگردی کی دفعات کے تحت 302 کا مقدمہ درج کیا جائے۔ والدہ ارشد شریف رفعت آرا علوی۔

متعلقہ تحاریر