ڈیلی میل نے عدالت سے باہر شہباز شریف سے ایک نکتے پر معافی مانگی، ڈیوڈ روز

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کے سابق رپورٹر  ڈیوڈ روز نے اپنے تھریڈ میں کہا کہ علی یوسف اور شہباز شریف نے  عدالت سے باہر معاملات طے کرلی ہیں اس لیے کیس ختم ہوگیا ۔اخبار نے معافی مانگ کر اپنی خبر ہٹادی ہے ،اس لیے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرونگا مگر اخبار نے صرف ایک نکتے پر معافی مانگی

برطانوی اخبار "ڈیلی میل” کے سابق رپورٹر ڈیوڈ روز کا کہنا ہے کہ اخبار نے شہباز شریف پر کرپشن کے مبینہ الزامات کے حوالے سے صرف ایک نکتے پر معافی مانگی ہے جبکہ انہیں کوئی ہرجانہ بھی ادا نہیں کیا گیا بلکہ عدالت سے باہر معاہدہ طے پایا ۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک تھریڈ میں برطانوی اخبار "ڈیلی میل” کے سابق رپورٹر ڈیوڈ روز نے کہا کہ شہباز شریف پر مبینہ الزامات کے حوالے سے صرف ایک نکتے پر معافی مانگی گئی اور یہ معاملہ عدالت سے باہر طے ہوا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

ڈیلی میل کے خلاف مقدمہ ، وزیر اعظم شہباز شریف کو لینے کے دینے پڑ گئے

رپورٹر ڈیوڈ روزنے پاکستانی میڈیا رپورٹس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصدیہ ظاہر کرنا ہے کہ برطانوی اخبار نے شہباز شریف سے 2019 کی ایک خبر پر معافی مانگی ہے جس میں ان پر امدادی رقوم میں غبن کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا ۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل” کے سابق رپورٹر ڈیوڈ روزنے معافی نامے کے اسکرین شاٹ شیئر کیا جس میں لکھا گیا ہے ہے 14 جولائی 2019 میں شائع ہونے والی خبر جس میں شہباز شریف پر مبینہ  کرپشن کے الزامات عائد کیے تھے اس پر شرمندہ ہیں۔

معافی نامے میں لکھا گیا ہے کہ ہم قبول کرتے ہیں کہ شہباز شریف پر قومی احتساب بیورو نے کبھی بھی برطانوی پبلک منی یا ڈی ایف آئی ڈی گرانٹ امداد کے سلسلے میں کسی غلط کام کا الزام نہیں لگایا۔ ہم  اس غلطی کے لیے شہباز شریف سے معذرت خواہ ہیں۔

اپنے تھریڈ میں ڈیوڈ روز نے کہا کہ  اخبار نے صرف ایک نکتے پر معافی مانگی ہے جبکہ اس میں کوئی ہرجانہ بھی نہیں دیاجائے گا اور ہمارے الزامات پر علی یوسف اور شہباز شریف نے عدالت میں  اپنے جوابات بھی جمع نہیں کروائے  تھے ۔

برطانوی اخبار "ڈیلی میل” کے سابق رپورٹر  ڈیوڈ روز نے کہا کہ علی یوسف اور شہبازشریف نے عدالت سے باہر معاملات طے کرلی ہیں اس لیے کیس ختم ہوگیا ۔اخبار نے معافی مانگ کر اپنی خبر ہٹادی ہے ،اس لیے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرونگا ۔

متعلقہ تحاریر