چوہدری پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب نہیں رہے، رانا ثناء اللہ کا دعویٰ

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ نہیں رہے اس لیے وہ اسمبلی کو تحلیل کرنے کی ایڈوائس بھی نہیں دے سکتے۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ چوہدری پرویز الہیٰ نے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ نہیں لیا اس لیے وہ آئینی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب نہیں رہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے رانا ثناء اللہ نے لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا ایک شخص اعلان کررہا تھا کہ ہمارے 99 فیصد لوگ اسمبلیاں تحلیل کرنے کے حق میں نہیں۔ وزیراعلیٰ اعتماد کا ووٹ لینے میں ناکام رہے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ گورنر آئینی طور پر وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب کی سیاست میں گھمسان کا رن ، جواب الجواب کا سلسلہ جاری

نئے وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے ن لیگ ، ق لیگ اور پیپلز پارٹی کے بڑوں سے سرجوڑ لیے

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا گذشتہ 7 ماہ سے اسلام آباد میں ہنگامہ برپا کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ ان کا کہنا تھا پنجاب میں کوئی سیاسی بحران نہیں ہے جیسے ہی نوٹی فیکیشن جاری ہوگا نئے وزیراعلیٰ آئیں گے۔ چوہدری پرویز الہیٰ اب اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس نہیں دے سکتے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے ، پنجاب میں امن و امان کی ذمہ داری صوبائی حکومت ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا سب کا آپس میں رابطہ ہے جو آئینی صورتحال ہے اس پر سب متفق ہیں۔

عمران خان پر طنز کرتےہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا ہم سمجھ رہے تھے کہ 17 دسمبر کو اسمبلیاں توڑ دیں گے ، مگر انہوں نے ایک نئی تاریخ دے دی۔ اگر اسمبلیاں توڑنی تھی تو دونوں وزرائے اعلیٰ سے دستخط کراتے اور اسمبلیاں توڑ دیتے۔

ن لیگ کی جانب سے وزارت اعلیٰ کا امیدوار کون ہوگا؟ کے سوال پر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا حمزہ شہباز ہمارے پارلیمانی اور اپوزیشن لیڈر ہیں ہمارے امیدوار بھی وہی ہوں گے۔ نئے وزیراعلیٰ کے ناموں پر غور نہیں کیا۔ گورنر کو آئینی اختیار حاصل ہے کہ وہ وزیراعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کرے۔ کل شام چار بجے کے بعد اجلاس نہ بلانے کے بعد پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ نہیں رہے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا اب نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوگا اس کے شیڈول کا اعلان بھی کردیا جائے گا۔

متعلقہ تحاریر